رسائی کے لنکس

نوشاد نے مکیش کو اپنے انداز میں گانے کا مشورہ دیا اور یوں آہستہ آہستہ مکیش کی آواز و انداز الگ سے پہچانے جانے لگے

لدھیانہ (پنجاب)کے ایک انجینئر چاند ماتھر اور چاند رانی کے ہاں 22جولائی1923ء کو مکیش چاند ماتھر کا جنم ہوا جسے آج دنیا مکیش کے نام سے جانتی ہے۔

وہ دس بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے۔ان کی بہن سندر پیاری کے موسیقی کے استاد ساتھ والے کمرے سے ان کی آواز سنا کرتے۔ ایک دن کہنے لگے کہ لڑکا بہت اچھی آواز کا مالک ہے یقینٍاً بہت نام کمائے گا اور وہی ہوا ، کون ہے جو اُنھیں نہیں جانتا۔

بات اگر نصابی تعلیم کی کریں تو مکیش نے میٹرک کے بعد اِس سلسلے کو خیرباد کہہ دیا۔ چند دن ایک جگہ نوکری بھی کی جو جلد ہی ختم ہو گئی۔بے روزگاری کے دنوں میں ان کا محبوب مشغلہ اپنی آواز کو مختلف انداز میں ریکارڈ کر کے سننا تھا،اس سے اور کچھ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ،ان کی گائیکی میں نکھار اور آواز میں پختگی ضرور آ ئی، اور ان کی یہ خوبی باقی سب کے ساتھ ساتھ ان کے ایک دور کے رشتے دار موتی لال پر اس وقت آشکار ہوئی جب مکیش نے اپنی بہن کی شادی خانہ آبادی پر جھوم جھوم کے گیت گائے۔

اُس کے فوراً بعد موتی لال اُنھیں ممبئی لے گئےاور استاد جگن ناتھ کے سپرد کیا ،جن سے اُنھوں نے موسیقی کے رموز سیکھے۔





اِسی دوران، مکیش کو فلم’ نردوش ‘ میں ایک کردار کی پیشکش کی گئی اور اُن کا پہلا گیت بھی اِسی فلم کے لیے تھا جس کے بول تھے

’دل ہی بجھا ہوا ہے۔‘

بطور پلے بیک سنگر ، اُن کو پہلا بریک تھرو فلم ’پہلی نظر ‘ میں ملا۔ ان کے گیت موتی لال پر فلمائے گئے۔ اِس فلم کا گیت ’دل جلتا ہے‘ بہت مقبول ہوا۔

مکیش چونکہ کے۔ایل۔سہگل سے بہت متاثر تھے، اِس لیے اگر آپ اُن کے شروع دور کے گیت سنیں تو آپ کو اُن پر کے۔ایل۔سہگل کا گماں ہوتا ہے اور تو اور ایک بار خود سہگل صاحب کو بھی مکیش کا ایک گیت سن کر اچنبھا ہوا کہ یہ اُنھوں نے کب ریکارڈ کروایا تھا۔اور وہ گیت فلم ’پہلی نظر ‘ سے ’دل جلتا ہے ‘ تھا۔

نوشاد نے مکیش کو اپنے انداز میں گانے کا مشورہ دیا اور یوں آہستہ آہستہ مکیش کی آواز و انداز الگ سے پہچانے جانے لگے اور لوگ اُن کی طرح گانے کی کوشش کرتے۔نوشاد نے اُن سے فلم ’انداز‘ کے گیت گانے کو کہا، جِن کی شہرت 1949ءسے لے کر آج تک کم نہیں ہوئی۔ اِس فلم میں جو گیت مکیش نے گائے وہ یہ تھے:

جھوم جھوم کے ناچو آج
ہم آج کہیں دل کھو بیٹھے
تو کہے اگر
ٹوٹے نا دل ٹوٹے نا

آغاز میں وہ دلیپ کمار کی نمائندہ آواز تھے اور محمد رفیع راج کپور کی ۔ لیکن، بعد میں دلیپ کمار نے اپنے لیے محمد رفیع کی آواز کو چنا۔ یوں، مکیش کی آواز میں گیت راج کپور پر فلم بند کیے جانے لگے۔

سنہ 1974میں اُنھیں فلم ’رجنی گندھا‘ کے گیت ’کئی بار یونہی دیکھا ہے‘ کے لیے بہترین پلے بیک سنگر کا ایوارڈ ملا۔

ان کی شادی گجرات کے ایک لکھ پتی برہمن کی بیٹی سرل ترویدی رائے چند سے ہوئی۔ چونکہ، مکیش کچھ زیادہ سیٹل نہیں تھے اور اس زمانے گلوکاری کو کوئی بہت اچھا پروفیشن نہیں سمجھا جاتا تھا اِسی لئے سرل جی کے گھر والے اس رشتے سے خوش نہیں تھے اور یوں مکیش اور سرل کو گھر والوں کی منشا اور آشیرباد کے بغیر ہی یہ بندھن باندھنا پڑا۔ بہت قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ دونوں کبھی خوش نہیں رہ سکیں گے اور جلد ہی علیحدہ ہو جائیں گے لیکن 1976ء میں اس جوڑے نے اپنی شادی کی تیسویں سالگرہ منائی۔ دونوں کے پانچ بچے ہوئے ریٹا، نتن، نلنی، مونیش اور نمرتا۔ اُن کے بیٹے نتن بھی گلوکار تھے اور اداکار نیل نتن مکیش ان کے پوتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG