رسائی کے لنکس

تپِ دق کے خاتمے کی کوششیں تیز کی جائیں: بھارتی صدر

  • سہیل انجم

پرنب مکھرجی

پرنب مکھرجی

ذرائع کے مطابق، بھارت میں ہر دو منٹ میں، ٹی بی کے ایک مریض کی موت واقع ہوتی ہے۔ سنہ 2005میں ایک لاکھ کی آبادی میں ٹی بی کے باعث 209افراد کی موت واقع ہوتی تھی۔ اب یہ تعداد گھٹ کر 175 تک آگئی ہے

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پولیو جیسا خطرناک مرض بھارت سے ختم ہوگیا ہے، بھارتی صدر پرنب مکھرجی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایک روز ملک تبِ دق (ٹی بی) کے موذی مرض سے بھی پاک ہوجائے گا۔

اُنھوں نے زور دے کر کہا ہے کہ دنیا سے اس مرض کا خاتمہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ بھارت سے اسے ختم نہ کردیا جائے۔وہ ’ٹی بی ایسو سی ایشن آف انڈیا‘ کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

بھارت میں ہر دو منٹ میں، ٹی بی کے ایک مریض کی موت واقع ہوتی ہے۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت میں ٹی بی کے سب سے زیادہ مریض ہیں۔ لیکن، اب ہر سال ٹی بی سے ہونے والی اموات میں کمی آتی جارہی ہے، اور اُنھیں امید ہے کہ اگر سب مل کر کام کریں، تو اس مرض کو جڑ سے اکھاڑا جاسکتا ہے۔

سنہ 2005میں ایک لاکھ کی آبادی میں ٹی بی کے باعث 209افراد کی موت واقع ہوتی تھی۔ اب یہ تعداد گھٹ کر 175 تک آگئی ہے۔

لیکن، ایک سینئر ڈاکٹر زین العابدین کا کہنا ہے کہ جب تک ناقص غذاؤں پر کنٹرول نہیں کیا جائے گا، تب تک اس مرض پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ٹی بی کے 90 فی صد افراد ناقص غذا اور پینے کے خراب پانی کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسپتالوں میں بھی صاف ستھرا ماحول نہیں ہے اور اگر کسی اسپتال میں 100 ڈاکٹر ہیں، تو اُن میں سے ہر سال کم از کم دو ڈاکٹر ٹی بی کے مریض ہوجاتے ہیں۔

ڈاکڑ زین العابدین نے مزید کہا کہ پولیو کے وائرس کو ختم کرنا آسان ہے، جب کہ ٹی بی کے جراثم کو ختم کرنا مشکل معاملہ ہے۔
XS
SM
MD
LG