رسائی کے لنکس

ملا فضل اللہ پاکستانی قبائلی علاقے میں پہنچ گیا: رپورٹ


ملا فضل اللہ (فائل فوٹو)

ملا فضل اللہ (فائل فوٹو)

گزشتہ ماہ حکیم اللہ محسود کی شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ کو پاکستانی طالبان نے اپنا امیر منتخب کیا تھا۔

قبائلی اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ ملا فضل اللہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سرحد پار افغانستان سے ایک خفیہ پہاڑی راستے کے ذریعے پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان پہنچا ہے۔

گزشتہ ماہ حکیم اللہ محسود کی شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سخت گیر شدت پسند تصور کیے جانے والے ملا فضل اللہ کو پاکستانی طالبان نے اپنا امیر منتخب کیا تھا۔

پاکستانی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں شروع کر رکھی تھی جو حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تعطل کا شکار ہو چکی ہیں۔ فضل اللہ حکومت سے مذاکرات سے انکار کر چکا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے طالبان کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا امیر قبائلی علاقوں میں پہنچ چکا ہے۔

انٹیلی جنس ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ فضل اللہ کے ساتھ طالبان کے چند اہم کمانڈر بھی قبائلی علاقے میں پہنچے ہیں۔

37 سالہ ملا فضل اللہ کا تعلق پاکستان کے علاقے سوات سے ہے اور وہ 2005ء میں عسکریت پسندوں کے ایک کمانڈر کے طور پر سامنے آیا۔ اپنے سخت گیر مذہبی خیالات کا پرچار کرنے کے لیے اس نے سوات اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی طور پر ایف ایم ریڈیو نشریات بھی شروع کر رکھی تھیں اور اسی باعث وہ ’’ملا ریڈیو‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔

سوات میں فضل اللہ کی زیر قیادت طالبان نے حکومت کی عمل داری تقریباً ختم کر دی تھی اور وہاں لوگوں کو احکامات کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ اس کی پرتشدد کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے پاکستانی فوج نے 2009ء میں وہاں آپریشن ’’راہ راست‘‘ کے نام سے کارروائی کی۔

اس کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور ملا فضل اللہ فرار ہوکر افغان صوبے نورستان میں روپوش ہو گیا تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق ملا فضل اللہ شمالی وزیرستان میں ہے جہاں تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں حکومت سے مذاکرات سمیت دیگر معاملات پر صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔

لیکن اس بارے میں طالبان کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، اس سے قبل طالبان ذرائع کی جانب سے حکومت سے مذاکرات نا کرنے کے بارے میں بیانات دیے گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG