رسائی کے لنکس

ترکی کے راستے عراق سے آلات کی مال برداری کی امریکی کوشش


مائیک ملن اخباری کانفرنس کرتے ہوئے

مائیک ملن اخباری کانفرنس کرتے ہوئے

امریکی فوج کے اعلیٰ عہدے دار نے بتایا ہے کہ امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ عراق میں غیر لڑاکا نوعیت کےواپس لائے جانے والے آلات کو ترکی کے راستے لانے کی اجازت دی جائے۔

جوائنٹ چیفز آف اسٹاف کے چیرمین ایڈمرل مائیک ملن نے ہفتے کو انقرہ میں باتیں کرتےہوئے اِس بات پر زور دیا کہ ترکی کی معرفت ہتھیاروں کی مال برداری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ترکی کے اخبار روزنامہ ‘حریت’ نے ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ عین ممکن ہے کہ انقرہ امریکی درخواست منظور کرلے۔

ترکی نیٹو کا رُکن ملک ہے جِس نے 2003ء میں امریکہ کو ہمسایہ ملک عراق پر حملے کےلیے ترک سرزمین کے استعمال کی اجازت سے انکارکیا تھا۔

ملن نے ترکی پربھی زور دیا کہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ میں معاونت کی جائے جن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنےسے روکنا ہے۔

جون میں ترکی نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے نئی پابندیاں لگانے پر ہونے والی ووٹنگ میں مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ مئی میں ترکی اور برازیل نے ایک منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت بحری ذرائع سےدونوں ممالک ایران سے کم سطح کے افزودہ یورینیم کے بدلے اعلیٰ سطح کے جوہری ایندھن کے تبادلے میں مدد دیتے۔

تاہم، انقرہ نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اقدامات کی پابندی کرے گا۔ ایران کہتا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

ملن نے یہ بھی کہا کہ ترکی کی طرف سے افغانستان میں زیادہ عمل دخل کا خیر مقدم کریں گے۔ اُنھوں نے افغان پولیس کی تربیت میں ترکی کی طرف سے کیے جانے والے کام کی تعریف کی۔

XS
SM
MD
LG