رسائی کے لنکس

اونٹ کی کھال کے ملتانی لیمپ فن نقاشی کا شاہکار

  • ندیم شاہ

ملتان کے معروف آرٹسٹ عبدالرحمن نقاش 1995 میں امریکی خاتون اول ہلری کلنٹن کو اونٹ کی کھال سے بنا ہوا اپنے آرٹ کا ایک نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی تصویر میں نمایاں ہیں۔

ملتان کے معروف آرٹسٹ عبدالرحمن نقاش 1995 میں امریکی خاتون اول ہلری کلنٹن کو اونٹ کی کھال سے بنا ہوا اپنے آرٹ کا ایک نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی تصویر میں نمایاں ہیں۔

صدیوں قدیم نقاشی کا فن اور اسکے منفرد نمونے ملتان اور جنوبی پنجاب کی شناخت ہیں-اونٹ کی کھال سے تیار شدہ ٹیبل لیمپ 100-50 سال تک چلتے رہتےہیں- ایک تا چھ فٹ سائیز کے مختلف ٹیبل لیمپس کی تیاری پر ایک ہفتہ سے لے کر کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ یونیسکو نے 2007 میں ہاتھ کی محنت سے تیار شدہ دنیا کی پانچ اشیاء میں اس ٹیبل لیمپ کو بھی شامل کرلیا اور اسے سیل آف ایکسچینج کا ایوارڈ دیا اور اس میں استعمال ہونے والے رنگوں کو قدرتی رنگ کہا جاتا ہے جو کہ پتھروں، پھولوں اور درختوں کی چھال سے تیار کئے جاتے ہیں-

عبدالرحمن نقاش

عبدالرحمن نقاش

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک مرتبہ بحیثیت امریکی خاتون اول اپنے دورہ لاہور میں اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے ہمراہ ملتانی نقاشی کے نمونہ جات کو فن کا شاہکار قرار دیا اور دستکاروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی۔

آج بھی فن نقاشی کی بارہویں نسل سے منسلک عبدالرحمان نقاش پر امید ہیں کہ ہر قسم کی سرپرستی سے محروم اس فن کو اگر بہتر طریقے سے دنیا کی مارکیٹوں میں متعارف کرایا جائے تو پاکستان کے لئے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ عبدالرحمن نقاش کا تعلق ملتان سے ہے جنکے آبااجداد نے 900 سال قبل اس فن کا آغاز کیا تھا آجکل وہ مسقط میں اپنے عالمی فن پاروں کی نمائش میں مصروف ہیں۔

عبدالرحمان نقاش کے تیارکردہ فن کیمل اسکن لیمپس

عبدالرحمان نقاش کے تیارکردہ فن کیمل اسکن لیمپس

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عبدالرحمن نقاش نے کیمل اسکن ٹیبل لیمپ کی تیاری کے حوالے سے بتایا کہ سب سے پہلے نقاش مٹی کے ایک مولڈ (ایک طرح کا فرمہ) کا ڈیزائن تیار کرتا ہے جسکے بعد اسے دوسرے دستکار جسے دبگر کہا جاتا ہے کو بھیج دیا جاتا ہے- دبگر اونٹ کی کھال کو چھلائی کے بعد اس پر چڑھا دیتا ہے- اس عمل میں کم ازکم 5-4 دن لگ جاتے ہیں مکمل خشک ہونے کے بعد چھڑی مار کر مولڈ توڑ دیا جاتا ہے اونٹ کی کھال کے مختلف حصے اس مولڈ پر ڈھالے جاتے ہیں پھر نیچرل ڈائیز یعنی قدری رنگ استعما ل کرنے کے بعد آخر میں نقاشی کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔

ملتان کی تاریخ و ثقافت ہزاروں سال قدیم ہے۔ اس خطہ میں لوگ اپنے گھروں کی سطح پر گھی اور تیل دار اجناس تیار کرتے تھے انہیں سالوں تک محفوظ رکھنے کے لئے اونٹ کی کھال سے کپے تیار کیے جاتے تھے جن میں گھی،تیل وغیرہ کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔ 1910 میں ہی استاد عبداللہ نقاش نے پہلی مرتبہ ان کپوں کو ٹیبل لیمپ میں تبدیل کرکے ان پر نقاشی کے نمونے بنائے۔ اس طرح ان ٹیبل لیمپس کا رواج چل نکلا۔

لیکن عبدالرحمان نقاش کا کہنا تھا کہ اونٹ کی کھال سے تیارشدہ مصنوعات ملتان میں مقبول عام ہیں، لیکن مصنوعات کی تیاری کے اخراجات میں اضافہ کے مقابلہ میں منافع کی شرح کم ہے- دوسری وجہ مشینری کے آجانےسے اور اونٹ کی کھال کا استعمال کم ہو جانے سے دستکار معاشی طور پر بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ کیونکہ وہ مارکیٹ کا کھلاڑی نہیں ہے نہ اسکے پاس مارکیٹ تک رسائی ہے اسکے استحصال کے لئے مڈل مین ہی کافی ہے۔

بھارتی شہر آگرہ میں واقع تاریخی تاج محل کو انہی ملتانی نقاشی کےنمونہ جات سے سجایا گیاہے۔ اس فن کے آثار قدیم مساجد، قلعوں، تاریخی مقبروں اور عمارات پر آج بھی پائے جاتے ہیں- اس فن کے نمونے کی عالمی مارکیٹ میں قیمت چند سو ڈالرز سے ہزاروں ڈالرز تک مل سکتی ہے۔ لیکن ملک میں بھرپور سرپرستی نہ ہونے اور مسلسل مہنگائی کے سبب یہ شعبہ دستکاروں کو معاشی خوشیاں دینے میں زوال کا شکار ہے۔

عبدالرحمان کے مطابق اسکے اجداد کا تعلق راجپوت خاندان سے تھا جنہوں نے 900 سال قبل حضرت بہاالدین زکریا کی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ اسکے بعد بھی راجپوت نقاش خاندان کے فن کا سفر جاری رہا۔ سن 1272 میں استاد الہی بخش نقاش نے نقاشی کے باقائدہ اصول وضع کیے۔

XS
SM
MD
LG