رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں کنگ فیصل اسپشلسٹ اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی منعقدہ تحقیق میں کثرت ازواج اور دل کے امراض کے درمیان حیرت انگیز ربط کا انکشاف ہوا ہے۔

دل کی صحت سے وابستہ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ شادی دل کی صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے یا پھر بری شادی دل کی صحت کے لیے بری ہو سکتی ہے جبکہ سعودی عرب کے امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ مرد کے لیے دل کی بیماریوں کا خطرہ چار گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔

سعودی عرب میں کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی منعقدہ تحقیق بتاتی ہے کہ دل کے امراض اور کثرت ازواج کے درمیان نمایاں تعلق ہے۔

مطالعے کے مصنف ڈاکٹر امین دولہ نے کہا کہ پچھلے مطالعوں میں شادی شدہ ہو نے سے مجموعی طور پر اچھی صحت اور لمبی زندگی کے ثبوت ملے تھے، لیکن اب تک کسی بھی مطالعے میں دل کی صحت پر تعداد ازواج کے اثر کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔

ہمارے مطالعے میں بیویوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں کی بیماریاں 'کورنری ہارٹ ڈیزیز' (CHD) کی تعداد اور شدت کے درمیان تعلق کا انکشاف ہوا ہے

کورنری آرٹریز دل کی اوپری سطح پر شریانوں کا نیٹ ورک ہے جن کے ذریعے دل اپنے لیے آکسیجن سے بھرے خون کی سپلائی حاصل کرتا ہے۔ لیکن کورنری شریانوں کے ریشوں پرچربیلا مواد جمنے کی وجہ سے خون کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔عام طور پر اس بیماری کی علامات انجائنا (سینہ کا درد) دل کا دورہ اور ہارٹ فیل ہے ۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر دولہ نے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ زیادہ بیویوں کے ساتھ مرد کو ایک سے زائد گھرانوں کو چلانا پڑتا ہے جس سے جذباتی اخراجات اور معاشی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عام طور پر ایک سے زائد شادی کرنے والے مردوں کی بیویاں ایک ہی جگہ یا مختلف علاقوں میں رہتی ہیں اور ایک ہی گھر میں رہائش پزیر نہیں ہوتی ہیں لہذا 'ممکن ہے کہ ہرگھرانے کے ساتھ منصفانہ اور یکساں سلوک کرنے کی ذمہ داری اور کئی گھرانوں کے بچوں کے درمیان توازن رکھنے کی کوششوں سےبھی ان میں دباؤ کا امکان بڑھتا ہے ۔'

کثرت ازواج کی مشق بنیادی طور پر شمالی اور مغربی افریقہ، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا یا جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جاتی ہے۔

محقق امین دولہ کا مطالعہ 687 شادی شدہ مردوں پر مبنی تھا۔جن کی اوسط عمر 59سال تھی، جنھیں سعودی عرب اور متحد ہ عرب امارات کے پانچ اسپتالوں نے کورنری انجیو گرافی کروانے کے لیے کہا تھا۔

مجموعی طور پر تحقیق میں شامل مردوں میں سے 68 فیصد کی ایک بیوی ،11 فیصد مردوں کی دو ،10 فیصد مردوں کی تین اور 3 فیصد مردوں کی چار بیویاں تھیں ۔

نتائج سے واضح ہوا کہ ایک بیوی کے ساتھ 62 فیصد مردوں میں کورنری شریانوں میں رکاوٹوں کی تشخیص ہوئی۔

لیکن جو مرد تین اور چار بیویوں کے ساتھ تھے ان میں سے ہر ایک شرکاء دل کی اس بیماری کا شکار تھا۔

ان شرکاء میں دل کی بائیں اہم ورید نصف سے زائد بند تھی، اسی طرح ملٹی ویسلز بیماری یا خون کی کئی وریدیں جزوی طور پر بلاک تھیں۔

محققین نے کہا کہ کثرت ازواج رکھنے والے مردوں اور ایک بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے والے مردوں کے درمیان طرز زندگی میں کافی اختلافات موجود تھے۔

کثرت ازواج کے ساتھ مرد اوسطاً بڑی عمر کے تھے ،ان کی آمدنیاں بھی زیادہ تھیں جبکہ ان میں دیہی علاقوں میں رہنے کے امکانات تھے۔

ڈاکٹر امین دولہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ دیہی علاقوں میں زیادہ شادیاں اس لیے کی جاتی ہیں کیونکہ وہاں کم عمری کی شادیوں کا رواج عام ہے اور کثرت ازواج کو ثقافتی طور پر قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔

تاہم ڈاکٹر دولہ نے تمام اختلافات کو تحقیقات میں شامل کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ زیادہ بیویوں کے ساتھ مردوں میں 4 سے 6گنا زیادہ کورنری شریانوں کے مسائل کا امکان تھا۔

ان میں شریانوں کی بیماری ملٹی ویسلز ڈیزیز (MVD) کا امکان 2.6 گنا زیادہ تھا ،جبکہ بائیں شریان کی بیماری (LMD)کا امکان 3.5گنا زیادہ تھا ۔

بقول ڈاکٹر امین دولہ کثرت ازواج کے علاوہ دوسرے عوامل مثلاً جسمانی سرگرمیوں کی سطح ازدواجی زندگی کا معیار بھی امراض قلب کی سطح پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

محقق امین دولہ کے مطابق، نتائج سے کثرت ازواج رکھنے والے مردوں کی بھوئیں تن سکتی ہیں لیکن یہ صرف خطرے کا اشارہ ہے۔

مطالعہ دل کی بیماری اور کثرت ازواج کے درمیان تعلق ظاہر کرتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ دل کی بیماریوں کی اصل وجہ تھی لہذا اس تعلق کی تصدیق کے لیے مزید مطالعوں کی ضرورت ہے۔

یہ مطالعہ ابو ظہبی میں 2015 ایشین پیسیفک سوسائٹی آف کارڈیالوجی کانگریس میں پیش کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG