رسائی کے لنکس

عورتوں کی نسبت مرد زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

  • جمیل اختر

عورتوں کی نسبت مرد زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

عورتوں کی نسبت مرد زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

یہ تصور صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ ہر معاشرے اور ترقی یافتہ اقوام میں بھی پایا جاتا ہے کہ مرد عورتوں کی نسبت کم غلطیاں کرتے ہیں، اور اگر دونوں کو کئی کام ایک ساتھ کرنے پڑیں تو مرد کی کارگردی عورت سے عموماً بہتر ہوتی ہے۔

اب تک خواتین اس سوچ کو انسانی معاشرے میں مردوں کی بالادستی قرار دیتی آئی ہیں ، لیکن اب سائنس دانوں نے بھی ایک نئی تحقیق کے بعد اپنا وزن خواتین کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے کہا کہ عورتوں کی نسبت مرد کہیں زیادہ غلطیاں کرتے ہیں ، اور اگر دونوں کو ایک ہی طرح کا کام کرنے کے لیے دیا جائے تو مردوں کی کارکر دگی عورتوں کے مقابلے میں کم تر بلکہ اکثر وبیشتر خراب ترہوتی ہے۔

ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈشائر میں شعبہ نفسیات کے پروفیسر کیتھ لاز کی قیادت میں کام کرنے والی ماہرین کی ایک ٹیم کو ایک مطالعاتی جائزے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی کے عام معمولات میں خواتین کی کارکردگی مردوں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے اور وہ ان کی نسبت کم غلطیاں کرتی ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ مرد حساب کتاب میں عورتوں کی نسبت اچھے ہوتے ہیں، جب کہ اس نئی تحقیق نے اس مفروضے کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ خواتین نہ صرف روزمرہ کے حساب کتاب اور جمع تفریق میں مردوں سے بہتر ہوتی ہیں بلکہ گم شدہ چیزوں کو ڈھونڈنے میں بھی ان کا دماغ مردوں سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے میں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ فہم و فراست کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

پروفیسر کیتھ لاز کا کہنا ہے کہ ہم اکثر ایسی کہانیاں اور لطیفے سنتے ہیں جن میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ عورتیں بہت غلطیاں کرتی ہیں اور وہ ایک ہی نوعیت کے کام میں مردوں کی برابری نہیں کرسکتیں، لیکن جب ہم نے اس مفروضے کو لیبارٹری میں پرکھا تو وہ نہ صرف یہ کہ غلط ثابت ہوا بلکہ یہ بھی معلوم ہوا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔

پروفیسر کیتھ لاز اور ان کی ٹیم نے اپنے اس تجربے میں ایک سورضاکاروں کو شامل کیا، جن میں نصف مرد اور باقی نصف عورتیں تھیں۔ انہیں آٹھ منٹ کے مقررہ وقت کے دوران تین کام کرنے کو کہا گیا، جن میں پہلا حساب کتاب کے چند سادہ سوالات، نقشے میں ایک ریستوران کا پتالگانا اور یہ بتانا تھا کہ اگر کسی خاص جگہ ان کی چابی گم ہوجائے تو وہ اسے ڈھونڈنے کے لیے کیا کریں گے۔

تجربے کے دوران رضاکاروں ایک ٹیلی فون کال بھی موصول ہوئی، تاہم یہ ان کی مرضی پر منحصر تھا کہ وہ کال سنیں یا نہ سنیں۔ جنہوں نے گھنٹی بجنے پر فون اٹھا، ان سے فون پر معلومات عامہ کے چند سوال پوچھے گئے، جن کا انہیں انہی آٹھ منٹ کے دوان جواب بھی دینا تھا۔

مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا کہ خواتین نے مقررہ وقت کے دوران یہ چاروں کام مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طورپر سرانجام دیے اور ان کی نسبت کم غلطیاں کیں۔

پروفیسر کیتھ لاز کہتے ہیں کہ مردوں کے بارے میں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان میں گردوپیش کے بارے میں عورتوں کی نسبت زیادہ شعور و آگہی ہوتی ہے۔اس لیے وہ اہم کاموں کی انجام دہی زیادہ بہتر انداز میں کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن جب ہم نے اپنے تجربے میں انہیں ایسے کام کرنے کے لیے کہا جس کے لیے منصوبہ بندی اور گردوپیش کے ادراک کی ضرورت ہوتی ہے، تو وہ عورتوں سے پیچھے رہ گئے۔

پروفیسر لاز کا کہنا تھا کہ مطالعاتی جائزے سے یہ بھی پتا چلا کہ مرد عموماً تحقیق کے دوران معاملے کی گہرائی تک جانے کے لیے زیادہ سوچ نہیں کرتے جب کہ خواتین اس کے ہر پہلو کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG