رسائی کے لنکس

قصاب کو سزائے موت دی جائے؛ استغاثہ

  • ہما رشید

منگل کے روز 26 نومبر ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں سرکاری وکیل اجول نکم نے زندہ پکڑے جانے والے پاکستانی دہشت گرد اجمل عامر قصاب کی سزا پر بحث کرتے ہوئے اُسے پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی نے جمعرات چھ مئی کو قصاب کی سزا کی مدت پر فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کے روز اجول نکم اور دفاعی وکیل کے پی پوار نے قصاب کے لیے سزا کی مدت کو لے کر اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیے۔ نکم نے قصاب کو’ قاتل مشین’ کا نام دیا جس کے کوئی انسانی جذبات نہیں ہیں۔ انہوں نےکہا کہ قصاب انسانیت اور سماج دونوں کے لیے بہت بڑا داغ ہے۔

جب کہ کے پی پوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ اُن کے موکل کی کم عمری اور ماضی کے کلِین مجرمانہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے سزا کا تعین کرے۔ قصاب کی سزا پر نرمی برتنے کی اپیل کرتے ہوئے پوار نے عدالت سے کہا ہے کہ یہ اُن کے موکل کا پہلا جرم ہے جس کے لیے اُن کے موکل کو ذہنی اور جذباتی طور پر برین واش کیا گیا تھا۔ اور اگر قصاب کے ساتھ نرمی برتی گئی تو اُسے سدھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

تاہم قصاب کو پھانسی کی سزا دلوانے کے لیے عدالت میں آٹھ انتہائی اہم دلائل پیش کرنے والے سرکاری وکیل نکم کے مطابق اگر پھانسی کی سزا نہیں دی گئی تو یہ قانون کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہوگا۔

خیال رہے کہ قتل، بھارت کے خلاف جنگ اور دہشت گردی کی سازش کرنے جیسے قصاب پر لگائے گئے 86 مختلف الزامات صحیح ثابت ہونے کے سبب کل پیر کے روز عدالت نے اِس 22 سالہ حملہ آور کو 26 نومبر حملوں کے لیے قصوروار ٹھہرایا تھا۔ جب کہ اِس کیس کے بقیہ دو بھارتی ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین کو پختہ ثبوت کی غیرموجودگی کے سبب بری کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG