رسائی کے لنکس

ممبئی حملے مقدمہ، شکاگو میں ابتدائی بحث کا آغاز


ممبئی حملے مقدمہ، شکاگو میں ابتدائی بحث کا آغاز

ممبئی حملوں سے متعلق شکاگو میں جاری ایک مقدمہ جس میں امریکی حکومت نے سات افراد پر ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات لگائے ہیں، گزشتہ ہفتے جیوری چننے کا کام مکمل کرنے کے بعد پیر سے اس میں ابتدائی بحث کا آغاز ہورہا ہے۔

مقدمے کا سب سے اہم گواہ ڈیوڈ ہیڈلی کو سمجھا جا رہا ہے۔ ایک پاکستانی والد اور امریکی والدہ کے گھر واشنگٹن میں پیدا ہونے والے 50 سالہ ہیڈلی کا پیدائشی نام داؤد گیلانی تھا لیکن امریکی حکومت کے مطابق انہوں نے اس لیے اپنا نام بدل کر ڈیوڈ ہیڈلی کر لیا تاکہ وہ با آسانی بھارت جا سکیں اور ان پر کوئی مسلمان ہونے یا پاکستان سے تعلق ہونے کا شک نہ کرے۔

ہیڈلی خود ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے جرم کا اقبال کر چکے ہیں اور اس مقدمے میں وہ اپنے دوست تہوّر حسین رعنا اور دیگر افراد کے خلاف گواہی دیں گے۔

ہیڈلی کے مطابق میجر اقبال نے ہی انہیں ممبئی جانے آنے اور وہاں رہ کر تاج ہوٹل سمیت مختلف مقامات کے بارے میں تصاویر، ویڈیو اور معلومات جمع کرنے کے لیے 25 ہزار ڈالر سے زائد دیے۔

پاکستانی حکومت نے ہیڈلی کی ساکھ کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ ہیڈلی ماضی میں جب ہیروئن کی سمگلنگ میں پکڑے گئے تھے تب بھی اپنی سزا کم کروانے کے لیے انہوں نےامریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے ساتھ کام کیا تھا اور اب بھی اپنی جان بچانے کے لیے غیر متعلقہ لوگوں کو ملوث کر رہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG