رسائی کے لنکس

سزائے موت کے خلاف ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت


عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کی سماعت کرنے والی عدالت سے مقدمے کو ٹرائل کورٹ میں نہیں بھیجا جا سکتا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو چار سال قبل فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت میں منگل کو کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

تاہم ممتاز قادری کے درجنوں حامی منگل کو عدالت عالیہ کے باہر موجود رہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے ممتاز قادری کے وکیل خواجہ شریف کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اسے فوجی عدالت کو بھیجا جا سکتا ہے۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کی سماعت کرنے والی عدالت سے مقدمے کو ٹرائل کورٹ میں نہیں بھیجا جا سکتا۔

خواجہ شریف جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں اس مقدمے میں ممتاز قادری کے وکیل ہیں۔ ان کے ہمراہ قادری کے حامی لگ بھگ پچاس وکلا کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

خواجہ شریف کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں 43 گواہوں میں سے صرف 14 ہی حاضر ہوئے جب کہ باقی ابھی تک عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ان کے بقول سلمان تاثیر کے ورثا بھی اس مقدمے میں دلچسپی نہیں لے رہے اور نہ ہی وہ سماعت کے لیے عدالت میں آئے۔

اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل میاں عبدالرؤف نے بینچ کو بتایا کہ مقتول گورنر کے قانونی ورثا کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور عدالت اس پر عملدرآمد کے لیے کہے۔

تاہم بینچ میں شامل جج نور الحسن کا کہنا تھا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی اگر کوئی نہیں پیش ہو رہا تو اس پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔

اس مقدمے کی سماعت اب بدھ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے اور ہائی کورٹ کی طرف جانے والے راستوں کو بھی کچھ دیر کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

ممتاز قادری (فائل فوٹو)

ممتاز قادری (فائل فوٹو)

ممتاز قادری جو کہ گورنر کے محافظوں میں شامل تھا، نے سلمان تاثیر کو چار جنوری 2011ء کو اسلام آباد کی ایک معروف مارکیٹ میں اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ کافی پینے کے بعد اپنی گاڑی میں سوار ہو رہے تھے۔

قادری نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس کا یہ فعل سلمان تاثیر کی طرف سے توہین مذہب کے قانون میں ترمیم سے متعلق ایک مبینہ بیان کا ردعمل تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت ممتاز قادری کو موت کی سزا سنا چکی ہے جس کے خلاف اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کے استعمال پر ایک عرصے سے بحث جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ آزاد خیال حلقے یہ باور کرتے ہیں کہ اس قانون کا لوگ غلط استعمال کر رہے ہیں جس کا سد باب کرنے کے لیے اس میں ضروری ترامیم کی جانی چاہیئں۔

تاہم بظاہر مذہبی حلقوں کے اثرو رسوخ کی وجہ سے اس پر نہ تو کھل کر بحث کی جاتی ہے اور نہ ہی اس میں ترمیم سے متعلق کوئی بھی حکومت غور کر سکی ہے۔

ادھر بھارتی شہر ممبئی میں چھ سال قبل ہونے والے دہشت گرد حملے کے ایک مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمن لکھوی کے مقدمے کی سماعت بھی روزانہ کی بنیاد پر شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں استغاثہ کی طرف سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ اس مقدمے کی سنجیدہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس کی سماعت روزانہ کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG