رسائی کے لنکس

پاکستان، امریکہ تعلقات میں تناؤ کا فائدہ انتہا پسندوں کو ہوگا: تجزیہ کار

  • شہناز نفیس

پاکستان، امریکہ تعلقات میں تناؤ کا فائدہ انتہا پسندوں کو ہوگا: تجزیہ کار

پاکستان، امریکہ تعلقات میں تناؤ کا فائدہ انتہا پسندوں کو ہوگا: تجزیہ کار

اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر تنویر احمد خان نے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کی تقریر پر جو اُنھوں نے انسٹی ٹیوٹ میں کی تبصرہ کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا کہ مسٹر کیمرون کے مطابق امریکہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان چاہتا ہے اور اِس کے لیے امریکہ طویل المیعاد بنیاد پر معاشی، اقتصادی اور تعلیمی شعبوں میں پاکستان کی مدد کرتا رہے گا۔

ڈاکٹر تنویر احمد کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے پاک امریکہ تعلقات کا خوشگوار رہنا انتہائی ضروری ہے۔

اُن کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ سے انتہا پسند عناصر کو تقویت ملتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کا اعتراف کیا، تاہم اُنھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مستحکم رشتوں کی تجدید کے بارے میں خوش امیدی کا اظہار کیا۔ حالیہ کشیدہ فضا میں دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں، آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان مشترکہ آپریشن کا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیاتھا۔

پاکستان ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ برگیڈیئر حامد سعید نے وائس آف امریکہ سے اپنے انٹرویو میں سفیر کیمرون منٹر کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں میں امریکہ کے بارے میں غلط تاثر کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے دورہٴ واشنگٹن کے بارے میں برگیڈیئر حامد سعید کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور خفیہ اداروں کے مابین مسائل کے حل کے لیے دروازہ ابھی کھلا ہے۔ واشنگٹن کے اپنے دورے میں جنرل پاشا اپنے امریکی ہم منصب ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پناٹا سے باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہٴ خیال کریں گے۔

اِس تمام پسِ منظر میں سیاسی مبصرین جنرل احمد شجاع پاشا کے واشنگٹن کے دورے کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG