رسائی کے لنکس

اطلاعات کے مطابق، رسل اسکوائر حملے میں فلوریڈا کے شہر تالا ہاسی سے تعلق رکھنے والی 64 سالہ امریکی خاتون ڈارلین ہورٹن ہلاک ہوگئی ہیں

برطانوی دارالحکومت لندن کے رسل اسکوائر میں بڑے پیمانے پر چاقو سے کئے گئے حملے میں ہلاک ہونے والی خاتون امریکی شہری تھیں، جنھیں ڈارلین ہورٹن کے نام سے نامزد کیا گیا ہے۔

یہ حملہ وسطی لندن کے رسل اسکوائر میں بدھ کی رات ساڑھے دس بجے پیش آیا، جب شہر کے پُرہجوم رسل اسکوائر میں ایک حملہ آور شخص نے چاقو سے وار کرکے ایک خاتون کو ہلاک اور پانچ افراد کو زخمی کردیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، رسل اسکوائر حملے میں فلوریڈا کے شہر تالا ہاسی سے تعلق رکھنے والی 64 سالہ امریکی خاتون ڈارلین ہورٹن ہلاک ہوگئی ہیں۔

ان کے شوہر رچرڈ ویگنر فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، جو بیرون ملک میں موسم گرما کےتعلیمی پروگرام کے سلسلے میں رسل اسکوائر سےدو بلاک دور ایف ایس یو اسٹڈی سینٹر لندن میں پڑھا رہے تھے۔

برطانیہ میں امریکی سفیر میتھیو بارزن نے ایک ٹویٹ میں مرنے والی خاتون کی امریکی شہری کی حیثیت سے تصدیق کی ہے۔ انھوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ''دکھ کی خبر ہے کہ رسل اسکوائر حملے میں ایک امریکی خاتون ہلاک ہوگئی ہیں۔ میری دعائیں تمام متاثرین اور ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ہیں''۔

علاوہ ازیں، امریکی خاتون کی موت کی تصدیق فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی طرف سے بھی کی گئی ہے جہاں ان کے شوہر نفسیات کے اسکالر ہیں۔

یونیورسٹی حکام کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن حملے میں فوت ہونے والی خاتون مسسز ہورٹن اور ان کے شوہر رچرڈ ویگنر موسم گرما کے کورس کے لیے لندن میں تھے اور جمعرات کو واپس امریکہ لوٹنے والے تھے۔

یونیورسٹی کے صدر جان ٹریشار نے کہا کہ اس خوفناک سانحے کو بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں۔

عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق مسسز ہورٹن پر حملہ آور نے پیچھے سے وار کیا تھا۔ وہ شدید زخمی حالت میں ریلنگ کے ساتھ فرش پر لہولہان تھیں اور مرنے سے پہلے ان کی زبان پر آخری گھبراہٹ زدہ الفاظ یہ تھے کہ وہ اب بھی یہاں ہے۔

میٹرو پولیٹن پولیس اسسٹنٹ کمشنر مارک رائولی نے صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے بتایا تھا کہ مرنے والی خاتون کی عمر ساٹھ برس کے قریب تھی جبکہ ان کے قتل کے شبے میں ایک انیس سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

حملہ آور کو زکریا بلحن کے نام سے نامزد کیا گیا ہے جو صومالی نژاد ناروے کے شہری ہے اور جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہے

مارک رائولی نے حملہ آور کی ذہنی حالت کو اس حملے کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے اور کہا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردی رسل اسکوائر حملے کا مقصد نہیں تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ابھی جبکہ تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہیں اس واقعے سے متعلق تمام ثبوت اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اس المناک واقعے کا ایک اہم محرک حملہ آور کی ذہنی حالت ہے۔

اس حملے کی اطلاع لندن پولیس کو دس بجکر تیس منٹ پر ملی تھی اور چھ منٹ بعد پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو ٹیز گن کی مدد سے گرفتار کرلیا تھا جبکہ حملے میں زخمی ہونے والے دیگر پانچ افراد میں سے ایک امریکی اور آسٹریلوی مرد اور خاتون اور اسرائیلی خاتون شامل ہیں جبکہ ایک برطانوی شخص اس حملے میں شدید زخمی ہوا ہے۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے کہا کہ برطانوی شہری جس کے پیٹ میں چھرا گھونپا گیا تھا وہ اسپتال میں زیر علاج ہے تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ دیگر زخمیوں کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

حملہ آور کو اسپتال میں علاج کے بعد بیڈ فورڈ پلس میں حراست میں رکھا گیا تھا جبکہ آج اسے مغربی لندن کی پولیس کی حراست میں دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG