رسائی کے لنکس

تاہم، مس پاسٹیکا نے قبول کیا ہےکہ انھوں نے اپنی گمشدگی کے ڈرامہ کی باقاعدہ منصوبہ بندی وضع کی تھی ۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک24 سالہ طالبہ جو پراسرار طور پرلاپتہ ہونے کے بعد مردہ قرار دے دی گئی تھی، 31 سال بعد واپس زندہ مل گئی ہیں۔ موصوفہ اب تک جعلی نام کے ساتھ ڈس لڈارف شہر میں اچھی زندگی گزار رہی تھیں۔

اکتیس برس تک دانستہ طور پر روپوشی کی زندگی گزارنے والی پیٹرا پاسٹیکا کی کہانی نے دو ہفتے قبل ایک دلچسپ موڑ اختیار کیا جب چوری کی اطلاع دینے کے لیے انھوں نے پولیس کو طلب کیا اور دوران تحقیقات ان کی اصل حقیقت منظر عام پر آگئ۔.

مس پاسٹیکا جو 55 برس کی ہو چکی ہیں، مسز شنائڈر کے نام سے زندگی گزار رہی تھیں۔

مس پاسٹیکا نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے اپنی گمشدگی کے ڈرامے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔

پیٹرا پاسٹیکا 1984 میں جرمنی کے ایک شمالی شہر برون شوائیگ سے غائب ہوگئی تھیں۔ وہ اس روز اپنے بھائی کی سالگرہ کے موقع پر گھر نہیں لوٹی، جس کے بعد جرمن پولیس کو اس کی گمشدگی کی رپورٹ کرائی گئی تھی۔

پاسٹیکا جب غائب ہوئی تھی تو اس وقت وہ طالب علموں کی ہاوسنگ سوسائٹی میں رہتی تھی، اس نے حال ہی میں کمپیوٹر لینگویج پر مقالہ مکمل کیا تھا، اور اسے آخری بار 26 جولائی کو دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس دیکھا گیا تھا۔ دوستوں کے مطابق وہ وہاں سے اپنے والدین کے گھر جانے کے لیے بس اسٹاپ پہنچی تھی لیکن وہ کبھی بھی وہاں نہیں پہنچ سکی۔

مس پیٹرا پاسٹیکا کی گمشدگی کا کیس کافی عرصے تک جرمن میڈیا کی خبروں کا موضوع بنا رہا۔ پھر ایک ٹی وی کے کرائم شو کی مدد سے 1985 میں ایک 19سالہ نوجوان بڑھئی نے اعتراف جرم کیا کہ اس نے ایک 14 سالہ لڑکی کو بس اسٹاپ کے قریب عصمت دری کے بعد قتل کرد یا تھا۔ یہ وہی بس اسٹاپ تھا جہاں سے مس پیٹرا پاسٹیکا کو سفر کرنا تھا۔

تاہم بڑے پیمانے پر تلاش کے باوجود پولیس کو کبھی بھی پیٹرا پاسٹیکا کی لاش نہیں ملی اور یہ کیس بند کردیا گیا۔ جس کے ساتھ ہی مس پاسٹیکا کو سرکاری طور پر مردہ قرار دے دیا گیا۔

ڈس لڈارف پولیس کے مطابق جب ایک چوری کی تحقیقات کے سلسلے میں خاتون سے ان کے شناختی کارڈ کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ گھبرا گئیں اور بتایا کہ گھر کےدراوزے پر موجود تختی پر ان کا نام نہیں ہے۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ برون شوائیگ شہر کی وہی طالبہ ہیں جو 31 سال پہلے غائب ہوگئی تھی، جس کے بعد مس پاسٹیکا نے پولیس کو اپنا پرانا شناختی کارڈ دکھا کر ثابت کیا کہ وہ مس پیٹرا پاسٹیکا ہی ہے۔

اخبار ایکسپریس کے مطابق مس پاسٹیکا نے اعتراف کیا کہ انھوں نےخفیہ طور پر ایک اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کی اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے کےلیے انھوں نے 4000 ڈوئچ مارک بچائے تھے۔

برون شوائیگ پولیس کے آفیسر جو واچم گرانڈے کا کہنا ہے کہ خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی گمشدگی کی رپورٹ کےبعد سے جرمنی کے مختلف شہروں میں بغیر شناختی دستاویزات کےساتھ زندگی بسر کررہی ہیں، ان کا کوئی بنک اکاونٹ نہیں ہے اور وہ غیر قانونی ملازمت کے نتیجے میں قلیل آمدنی کماتی ہیں اور اپنے تمام بل نقد رقم سے ادا کرتی ہیں۔

برون شوائیگ اور وولفس برگ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مس پاسٹیکا نے اپنے غائب ہونے کے مقصد کی وضاحت نہیں کی ہے، لیکن یہ گمشدگی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھی اور خاتون نے واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی عوام یا اپنے خاندان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی ہیں۔

ادھر ان کےگھر والے صدمے میں ہیں اور مس پاٹیکا کے زندہ ہونےکی خبر پر آنسو بہا رہے ہیں۔

جرمن پولیس ان کی گمشدگی کو ایک جرم کے طور پر نہیں دیکھ رہی ہے تاہم پاسٹیکا کو اب جرمن حکام کے ساتھ باضابطہ طور پر خود کو زندہ رجسٹرڈ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG