رسائی کے لنکس

متنازع بیان پر مشاہد اللہ کی وزیراعظم کے سامنے وضاحت

  • عشرت سلیم

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے لیکن سرکاری بیان میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اُنھیں اپنے ایک متنازع بیان سے متعلق وضاحت پیش کی۔

سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم سے ملاقات میں مشاہد اللہ خان نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے لیکن سرکاری بیان میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔

مشاہد اللہ خان نے گزشتہ ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے’بی بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل ظہیرالاسلام عباسی گزشتہ سال پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو نے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کا ٹیلی فون ریکارڈ کیا تھا جس سے اس سازش کا انکشاف ہوا۔

مشاہد اللہ خان کا انٹرویو نشر ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے اس الزام کی وضاحت مانگی گئی تھی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے مبینہ ٹیلی فون ریکارڈنگ کبھی نہیں سنی، اور نہ ہی اس کی موجودگی کے بارے میں جانتے ہیں۔

اُدھر فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے بھی کہا کہ ’’میڈیا میں جس ٹیپ ریکارڈنگ کا ذکر چل رہا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اس طرح کی افواہیں غیرذمہ دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ ہیں۔‘‘

مبصریں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ جوڈیشل کمیشن نے 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے اور تحریک انصاف ایوان میں واپس آ چکی ہے، ایسے وقت میں حکومت کے ایک اہم وزیر کی طرف سے اس طرح کا بیان سامنے آنا گڑھے مردے اکھاڑنے کے مترادف ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوج اور حکومت دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اور اس طرح کے بیانات سے ان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو سکی ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل دھرنوں کے دوران دیگر وفاقی وزرا بشمول وزیر دفاع آف خواجہ بھی ایسے بیانات دے چکے ہیں جن میں انہوں نے آئی ایس آئی پر سازش کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہمشاہداللہ خان نے انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے خود کبھی مبینہ ٹیلی فون ریکارڈنگ نہیں سنی اور اُن تک بھی یہ خبر ’’دیگر ذرائع‘‘ سے پہنچی۔

XS
SM
MD
LG