رسائی کے لنکس

پھانسی کی سزا پر 19 دسمبر سے دوبارہ عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 7 مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ چھ مجرم سابق صدر پر ناکام قاتلانہ حملے جبکہ ساتواں مجرم عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث تھا

سال2014ء کا آخری دن سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے مجرم نیاز محمد کے لئے اپنی زندگی کا بھی آخری دن ثابت ہوا۔ پچھلے 13دنوں کے دوران سابق صدر پر حملے کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا جانے والا نیاز محمد چھٹا مجرم تھا۔ اس سے قبل ارشد محمود، غلام سرور بھٹی، زبیر احمد، رشید قریشی اور اخلاص احمد عرف روسی کو بھی اسی جرم کی پاداشت میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

پاکستان میں پھانسی کی سزا پر 19دسمبر سے دوبارہ عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 7 مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ چھ مجرم سابق صدر پر ناکام قاتلانہ حملے جبکہ ساتواں مجرم عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث تھا۔

ارشد محمود 19دسمبر جبکہ غلام سرور بھٹی، زبیر احمد، رشید قریشی و اخلاص احمد عرف روسی21 دسمبر اور نیاز محمد 31 دسمبر کو تختہ دار پر لٹکائے گئے۔

سزائے موت کے دو مجرموں کاانتقال
سزائے موت کے دو مجرم اپنی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے پہلے ہی انتقال کرگئے۔ ان میں سے ایک کوٹ لکھپت سینٹرل جیل لاہور میں سزائے موت کا قیدی عمر رشید دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث منگل کو دم توڑ گیا، جبکہ سینٹرل جیل سکھر میں سزائے موت کا ایک قیدی نظام الدین 20 دسمبر کو دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوا۔

سانحہ پشاور کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عائد پابندی ختم کر دی تھی، جس کے بعد خطرناک دہشت گردوں کی پھانسی دینے کا عمل دوبارہ شروع کردیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا، جس کے سبب 2008ء سے 2013ء کے دوران صرف دو افراد ہی کو پھانسی دی جا سکی۔

XS
SM
MD
LG