رسائی کے لنکس

مشرف کا پاکستان واپسی کا ارادہ ملتوی


آٹھ جنوری کو جنرل(ر) پرویز مشرف نےدبئی سےٹیلی فون پرکراچی کےجلسے سے خطاب کیا

آٹھ جنوری کو جنرل(ر) پرویز مشرف نےدبئی سےٹیلی فون پرکراچی کےجلسے سے خطاب کیا

سابق صدر نے اپنی جماعت کی اِن سفارشات سے اتفاق کیا ہے جِن میں اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وطن واپس نہ جائیں: 'آل پاکستان مسلم لیگ' کے سیکریٹری جنرل کا بیان

پاکستان کےسابق فوجی صدرجنرل (ر) پرویز مشرف نےملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کے باعث وطن واپسی کا ارادہ ملتوی کردیا ہے۔

سابق صدر کی جماعت 'آل پاکستان مسلم لیگ' کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سیف نے جمعے کو دبئی میں صحافیوں کو بتایا کہ سابق صدر نے اپنی جماعت کی اِن سفارشات سے اتفاق کیا ہے جِن میں اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وطن واپس نہ جائیں۔

بیرسٹر سیف نے سابق صدر کو وطن واپسی سے گریز کا مشورہ دینے کی وجہ ملکی حالات بتائے جہاں ان کے بقول حکومت اور سپریم کورٹ میں بظاہر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

صدر مشرف 2008ء میں اپنے خلاف مقدمات سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک چلے آئے تھے جس کے بعد سے وہ دبئی اور لندن میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مشرف نے حال ہی میں جنوری کے اختتامی ہفتے میں وطن واپسی کا اعلان کیا تھا تاہم پاکستانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر وہ واپس آئے تو انہیں سابق وزیرِاعظم اور موجودہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بے نظر بھٹو کے قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا جائے گا۔

بے نظیر بھٹو کو صدر مشرف کے دورِ اقتدار میں دسمبر 2007ء میں اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جارہی تھیں۔

گوکہ صدر مشرف محترمہ بھٹو کے قتل کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہیں۔ تاہم، استغاثہ کا موقف رہا ہے کہ اس واردات میں ان کا بھی کوئی کردار تھا۔

بیرسٹر سیف نے صحافیوں کو بتایا کہ پرویز مشرف نے وطن واپسی کا ارادہ ملتوی کردیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی نئی تاریخ نہیں دی کہ سابق صدر دوبارہ کب وطن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مشرف خود پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔

XS
SM
MD
LG