رسائی کے لنکس

پرویز مشرف کے خلاف درخواستوں پر وفاق سے جواب طلب


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے پر غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے دائر کردہ درخواستوں پر پیر کو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ حکومت کو اس معاملے پر چند قانونی اعتراضات ہیں جنھیں دور کیے بغیر اس پر عدالتی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے پر غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے دائر کردہ درخواستوں پر پیر کو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ حکومت کو اس معاملے پر چند قانونی اعتراضات ہیں جنھیں دور کیے بغیر اس پر عدالتی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت اعظمیٰ کے دو رکنی بینچ کے سامنے پیش ہو کر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا یہ تمام معاملہ سپریم کورٹ کی 31 جولائی 2009 کے فیصلے کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ’’انصاف نا صرف ہو بلکہ انصاف ہوتا دکھائی بھی دے۔ جو کہ یہاں ایسا نظر نہیں آ رہا‘‘۔

تاہم زبانی اعتراضات بیان کرنے سے روکتے ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل کو بدھ کو آئندہ سماعت کے موقع پر تحریری طور پر حکومت کا موقف جمع کرانے کی ہدایت کی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر اس سے متعلق ججوں نے کوئی کوتاہی کی ہے تو اُنھیں بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ ’’اب وہ دن نہیں آنے چاہیے یا جاری رہنے چاہیے کہ لوگوں سے چیزیں مخفی رہیں۔‘‘

ایک درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اٹارنی جنرل کے رویے سے لگتا ہے کہ حکومت پرویز مشرف کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔

’’ماسوائے اس کے کہ غداری کی کارروائی صرف و فاق کی درخواست پر ہو سکتی ہے (کوئی اور قابل عمل اعتراض نہیں ہو سکتا)۔ اگر وزیراعظم یا کوئی وزیر ایسا کوئی کام کریں تو اس کا مطلب اس کے خلاف غداری کی کارروائی ہی نہیں ہو سکتی۔ یہ بات فضول ہے۔‘‘

پرویز مشرف کی طرف سے 2007ء میں آئین کو معطل کر کے ایمرجنسی کے نفاذ کو 2009ء میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں غیر آئینی قرار دے دیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے اقدامات پر وفاق کے موقف کے بارے میں جب عدالت نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انہیں اب تک کوئی ہدایت نہیں کی گئی اس لیے وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سماعت سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ وفاقی حکومت نے نہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور نہ ہی سینیٹ کی قرارداد کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے کوئی اقدامات کیے ہیں۔

گزشتہ سال پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو خود ساختہ جلاوطنی سے واپسی پر گرفتار کر کے اُن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کا موقف ہے کہ سینیٹ کی قراردار کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ’’یہ صرف اس ہاؤس میں موجود لوگوں کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے‘‘۔

دریں اثناء پرویز مشرف نے اسلام آباد میں پیر کو اپنی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کا انتخابی منشور کا اعلان کیا جو کہ ان کے بقول 2010 ء میں انھوں نے خود مرتب کیا تھا۔

اُنھوں نے دہشت گردی و انتہا پسندی سے متعلق اپنے منشور میں کہا کہ ملک کو تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے بچاؤ کو یقینی بنایا جائے گا اور افواج کو مزید مضبوط اور وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ دھشت گردی کے خلاف ’’سر زمین کے ہر کونے میں جنگ‘‘ لڑی جائے گی۔

اُنھوں نے معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آمدن اور اخراجات میں فرق کو کم کیا جائے گا جبکہ بینکوں سے قرض لینے کی حد کا تعین کیا جائے گی اور قانون سازی کے تحت قرضوں کی شرح ملکی پیداوار کا 60 فیصد کیا جائے گا۔

سابق صدر نے کہا کہ ملک میں زرعی پیدوار بڑھانے کے لیے کالا باغ ڈیم انتہائی ضروری ہے مگر تمام صوبوں کی مشاورت سے اسے تعمیر کیا جائے گا۔

منشور میں اُنھوں نے کہا کہ خواتین مخالف تمام قوانین اور روایات کو ختم کیا جائے گا اور معاشرے میں ان کے کردار کو فعال بنانے کے لیے بھر پور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG