رسائی کے لنکس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ حکم اعلٰی عدلیہ کے ججوں کو نظر بند رکھنے سے متعلق مقدمے میں پرویز مشرف کی عبوری ضمانت کی منسوخی کے بعد دیا۔

پاکستان میں ایک اعلٰی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت کی درخواست منسوخ کرتے ہوئے اُن کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیر صدیقی پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے پرویز مشرف کی گرفتاری کا یہ حکم اعلٰی عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کرنے سے متعلق مقدمے میں سابق صدر کی عبوری ضمانت کی منسوخی کے بعد جمعرات کو دیا۔

لیکن سابق فوجی صدر کی حفاظت پر معمور نجی اور دیگر سکیورٹی اہلکار اُنھیں کمرہ عدالت سے اسلام آباد میں اُن کی رہائشگاہ واپس لے گئے۔

پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت میں سماعت کے دوران یہ موقف اختیار کیا تھا کہ تین نومبر 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سابق فوجی صدر نے ججوں کی نظر بندی سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا تھا۔

سابق صدر کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء ڈاکٹر محمد امجد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’اسلام آباد پولیس کارروائی کرتی ہے اور سپریم کورٹ سے ہماری ضمانت نہیں ہوتی تو ہم گرفتاری کے لیے تیار ہیں۔‘‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پرویز مشرف کے وکلاء نے سپریم میں درخواست دائر کی لیکن اس پر بعض قانونی اعتراضات لگا کر واپس کر دیا گیا۔
پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے موکل کی گرفتاری سے قبل حکومت کو ملک کی مجموعی صورت حال کو دیکھنا ہو گا۔

’’ہم عدالتی عمل مکمل کریں گے، تاکہ دنیا ہمیں یہ نا کہے کہ ہم عدالتی عمل سے پیچھے ہٹ گئے۔ ہم ججوں پر چھوڑ رہے ہیں کہ وہ اپنی غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔ پرویز مشرف کی گرفتاری کا فیصلہ ریاستی سطح پر ہونا ہے کیوں کہ ریاست کی تمام ایجنسیوں نے رپورٹ دینی ہے کہ ان کی گرفتاری سے نتائج کیا ہوں گے۔‘‘

سابق فوجی صدر کو اپنے دور اقتدار میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اعلٰی عدلیہ کے ججوں کو نظر بندے کرنے، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو ناکافی سکیورٹی کی فراہمی اور قوم پرست بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث ہونے سے متعلق مقدمات کا سامنا ہے۔

ان تینوں مقدمات میں وہ عبوری ضمانت پر تھے لیکن جب وہ اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی نظربندی سے متعلق مقدمے میں اپنی ضمانت میں توسیع کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تو اعلٰی عدلیہ نے اُن کی ضمانت منسوخ کر دی۔

پرویز مشرف 11 مئی کو ہونے والے انتخابات میں شرکت کے لیے اپنی چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر 24 مارچ کو پاکستان واپس پہنچے تھے۔ اُنھوں نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جنہیں مسترد کر دیا گیا۔
XS
SM
MD
LG