رسائی کے لنکس

دل کی تکلیف کے باعث پرویز مشرف اسپتال منتقل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وکیل صفائی احمد رضا قصوری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں ڈاکٹروں کی رپورٹ حتمی ہوتی ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو دل کی تکلیف کے باعت جمعرات کو راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب منتقل کر دیا گیا۔

تین رکنی خصوصی عدالت کی ان کے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی کے آغاز پر وکلاء صفائی نے ججوں اور عدالت کی تشکیل سے متعلق اپنے اعتراضات جاری رکھے تاہم کچھ دیر بعد عدالت کو بتایا گیا کہ صحت کی اچانک خرابی کی وجہ سے پرویز مشرف آج بھی بینچ کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سابق سربراہ عدالت میں پیشی کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوئے تھے مگر راستے میں انھیں دل کی تکلیف ہونے پر راولپنڈی میں افواج پاکستان کے آرمڈ فورسز کے انسٹیٹویٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) منتقل کر دیا گیا۔

پرویز مشرف کے وکلاء کے مطابق انہیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا ہے۔ تاہم اسپتال کی جانب سے باقاعدہ طور پر سابق صدر کی حالت کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

وکیل صفائی اور سابق صدر کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما احمد رضا قصوری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان معاملات میں ڈاکٹروں کی رپورٹ فائل ہوتی ہے۔ اگر ڈاکٹر یہ کہہ دیں کہ آئندہ دس دن کوئی شخص دفتر یا عدالت نہیں جا سکتا تو دنیا کی کوئی عدالت یا دفتر اسے نہیں بلا سکتا۔‘‘

پرویز مشرف سے متعلق اس واقعے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں ایسی قیاس آرائیاں بھی گردش کرنے لگیں کہ حکومت کے ساتھ مبینہ معاہدے کے تحت پرویز مشرف خرابی صحت کی بنیاد پر ملک سے باہر جا سکتے ہیں یا اس بنیاد پر غداری سے متعلق مقدمہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔

تاہم احمد رضا قصوری کا ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا۔

’’ہم تو دو قدم آگے بڑھ کر اسے لڑ رہے ہیں۔ ہم نے چھ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور یہ جو اکرم شیخ (وکیل استغاثہ) کہتا ہے کہ 10 دن میں فیصلہ ہو گا تو یہ کوئی سمری ٹرائل نہیں۔ اس میں کئی دقیق قانونی و آئینی معاملات شامل ہیں اور یہاں نہیں تو سپریم کورٹ میں بحث ہونی ہے۔‘‘

فوج کے سابق سربراہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007ء میں آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی اور ججوں کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے۔ پرویز مشرف کہہ چکے ہیں کہ اس مقدمہ پر فوج نالاں اور ان کی حمایت کرتی ہے۔

سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت سے پرویز مشرف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی استدعا بھی کی مگر اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG