رسائی کے لنکس

انصاف کے یہ داعی قانون کو یوں ہاتھ میں لیتے نظر آتے ہیں کہ انگلیاں دانتوں میں دبی جاتی ہیں۔

کوٹ اور بوٹ کا ’’معرکہ‘‘ 2007ء اور اس کے بعد کے سال تک دیکھنے میں آتا رہا لیکن پھر بوٹ تو ایک طرف ہو گئے لیکن جس قانون کی حکمرانی کے لیے کوٹ میدان میں کودے تھے اس کی دھمک اب بھی سنائی دیتی ہے۔

عدلیہ آزاد کرانے والے لگ بھگ ایک لاکھ وکلاء کے ساتھ بھوک، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری کے مارے عوام بھی سڑکوں پر نکلے۔

لیکن پھر یہ منظر اور خبریں یکے بعد دیگرے سامنے آنے لگیں کہ وکیلوں نے پولیس والے کو ’’دُھر دیا‘‘۔ وکلاء نے سیشن کورٹ کے جج کو ’’ٹکا دیں‘‘۔ قانون کی حکمرانی کا دم بھرنے والوں نے مخالف وکیل کا ’’دَم لینا‘‘ مشکل کردیا۔

بوٹ تو کب کے ایک طرف بیٹھ ہو گئے اور عدالتیں آزاد ہو کر انصاف بانٹنے لگیں۔

سابق فوجی حکمران پرویز مشرف خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے، انتہائی حفاظتی حصار میں عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے لگے۔ لیکن ان کی واپسی کے بعد سے پھر عدلیہ پر ’’شب خون‘‘ مارے جانے کا ’’زخم‘‘ تازہ ہوتا دکھائی دینے لگا۔

عدالتوں میں حاضر ہونے والے مشرف کے خلاف وکلاء کی فلک شگاف نعرے بازیاں بجا کہ زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے۔ لیکن انصاف کے یہ داعی قانون کو یوں ہاتھ میں لیتے نظر آتے ہیں کہ انگلیاں دانتوں میں دبی جاتی ہیں۔

ایسے میں مقامی ذرائع ابلاغ میں وکلاء تحریک کے چند رہنماؤں کے یہ بیانات سامنے آرہے ہیں کہ یہ ’’دراصل وکلاء نہیں ہیں، وکیلوں کے بھیس میں شرپسند ہیں۔‘‘ ایک صاحب نے تو یہ کہہ کر بات لپیٹی کہ اس ردعمل کو مشرف دور میں وکیلوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

بجا فرمایا لیکن اتنے منظم اور قانون کی بہتر نگہبانی کرنے والوں کو اس پر بھی تو نظر رکھنی چاہیے کہ ان کا نام وہ خراب کررہے ہیں جو ’’ان میں سے نہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG