رسائی کے لنکس

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا اعلان درست پالیسی نہیں: مشرف


افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا اعلان درست پالیسی نہیں: مشرف

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا اعلان درست پالیسی نہیں: مشرف

پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے اپنی فوجوں کی انخلاء کی کوئی تاریخ دینے کے بجائے اپنی واپسی وہاں حالات کی بہتری سے مشروط کرنی چاہیے۔ وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ وہاں بین الاقوامی برادری کی تمام کوششوں کا مرکز ملک ا ستحکام ہو نہ کہ وہاں سے انخلاء۔

صدر اوباما کے موجودہ دورہِ ایشیا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ امریکہ پاکستان کومحض بھارت کے تناظر میں نہیں دیکھتا لیکن جب پاکستان کو ایک اسٹریٹجک اتحادی کہا جاتا ہے تو پھر اس سے سلوک بھی اسی طرح کا کرنا چاہیے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان اس وقت حالیہ سیلابوں کی وجہ سے ایک بہت بڑی تباہی کا سامنا کررہا ہے اور اگر اس صورتحال میں امریکی صدر پاکستان جاکر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے تو اس سے پاکستان میں موجود امریکہ کے خراب تاثر کو بہتر کرنے میں بہت مدد ملتی۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے ایک ایسے لائحہِ عمل پر کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا جس کے تحت لائن آف کنٹرول کی حیثیت بالکل غیرموثر ہوجاتی اور دونوں طرف کے کشمیری عوام ایک دوسرے سے آزادی سے مل سکتے تھے۔ گذشتہ ہفتے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیرِ اعظم بیرسٹرسلطان محمود نے کہاتھا کہ سابق صدر مشرف کے دور میں کشمیر کے مسلئے کے حل کے لیے جو بھی اقدامات کیے جارہے تھے ان میں کشمیری قیادت کو قطعی طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس حوالے سے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہوا اور دونوں طرف کی کشمیری قیادتوں سے مسلسل بات چیت کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیڈرز کی پاکستان آمد انہی رابطوں کی ایک کڑی تھی ورنہ اس سے قبل بھارت کی جانب سے انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

XS
SM
MD
LG