رسائی کے لنکس

مشرف کی واپسی پر عوام کا ملا جلا ردعمل

  • شیرن بین

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

مسٹر مشرف کے پاس اب چھہ ہفتوں سے کچھ ہی زیادہ وقت ہے۔ اس عرصے میں انہیں پورے ملک کو قائل کرنا ہے کہ انہیں پاکستان کے مستقبل میں ایک بار پھر سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیئے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف جب چار سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان واپس پہنچے تو لوگوں کی ایک چھوٹی سی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔

عظیم احسان قاضی جیسے بعض شہریوں کے خیال میں، مسٹر مشرف نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا اور وہ 11 مئی کے انتخابات میں نیا اندازِ فکر لا سکتے ہیں۔

‘‘ان کی آمد پورے پاکستان کے لیے اچھی بات ہے۔ وہ ہمیں ایک نیا نقطہ ٔ نظر، ایک نئی رائے، ایک نئی امید دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سی پارٹیاں موجود ہیں اور ان کے بارے میں مختلف آرا ہیں، لیکن مشرف اچھے آدمی ہیں۔ میرے خیال میں انہیں کوشش کرنی چاہیئے۔’’

بعض دوسرے لوگ جیسے سید اسد عباس کہتے ہیں کہ مسٹر مشرف نے اپنے نو سالہ دورِ اقتدار میں پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابات میں انہیں کچھ زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔

‘‘ان کے ساتھ اب کوئی بھی نہیں ہے اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے، وہ سب لا پتہ ہیں، اور کوئی بھی ان کے پیچھے نہیں چل رہا ہے، نہ ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔ میرے خیال میں انتخابات میں شمولیت سے انہیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔’’

مسٹر مشرف 2008 میں مواخذے کے ڈر سے پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ یہ اس کے بعد ہوا جب انھوں نے سپریم کورٹ سے ٹکر لی، آئین کو معطل کر دیا، اور ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا۔ ان کے خلاف مقدمے اب بھی عدالتوں میں موجود ہیں۔

کراچی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سابق فوجی حکمراں اپنی کامیابی کے بارے میں بڑے پُر اعتماد نظر آئے۔

‘‘اس مرحلے پر، میں آپ کو بالکل صحیح اندازہ تو نہیں دے سکتا، لیکن مجھے یہ امید ضرور ہے کہ میں بہت سی نشستیں جیت لوں گا۔ میں دوسرے لوگوں کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں کوئی سونامی لے آؤں گا۔ اس لمحے میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے۔’’

سابق فوجی کمانڈر مصر ہیں کہ پاکستان کے لیے وہی سب سے زیادہ موزوں امیدوار ہیں۔

دوسرے لوگوں کی رائے اس بارے میں ملی جلی ہے۔ مسٹر مشرف کے پاس اب چھہ ہفتوں سے کچھ ہی زیادہ وقت ہے۔ اس عرصے میں انہیں پورے ملک کو قائل کرنا ہے کہ انہیں پاکستان کے مستقبل میں ایک بار پھر سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG