رسائی کے لنکس

استاد امانت علی خان کی چھتیسویں برسی


استاد امانت علی خان کی چھتیسویں برسی

استاد امانت علی خان کی چھتیسویں برسی

برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے پٹیالہ گھرانے کے استاد امانت علی خان 1932میں غیر منقسم ہندوستان میں پنجاب کے علاقے ہوشیار پور میں پیدا ہوائے۔اپنے بھائی فتح علی خان کے ساتھ جوڑی کی صورت میں مختلف محافل میں اپنے فن گائیکی کے جوہر دکھاتے رہے اور بعد ازاں ریڈیو پاکستان پر موسیقی کے پروگراموں میں بھی شریک ہونے لگے۔

استاد امانت علی خان نے غزل گائیکی کو اپنے منفرد اندازمیں پیش کرکے بہت جلد اپنے ہم عصرگلوکاروں، جن میں استاد مہدی حسن خان،استاد غلام علی اور اعجاز حضروی شامل ہیں،میں اپنا ایک الگ مقام اور شناخت بنائی۔

موسم بدلا رُت گدرائی اہل جنون بے باک ہوئے
ہونٹو ں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو

اور ایسے بے شمار لازوال گیت اور غزلیں آج بھی شائقین موسیقی میں بے حد مقبول ہیں جب کہ ان کے گائے ہوئے ملی نغمے اب بھی ان کے منفرد انداز گائیکی کے ساتھ وطن پرستی کا درس دیتے ہیں۔

کلاسیکی موسیقی کے ایک استاد اور محقق شہباز علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استاد امانت علی خان نے اپنی پرسوز آواز میں غزل کو کلاسیکی انداز میں رہتے ہوئے جو ایک الگ آہنگ دیا وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ ان کے بقول پٹیالہ گھرانے کے بہت سے گلوکار اب بھی فن موسیقی سے وابستہ ہیں تاہم امانت علی خان کی وفات سے اس گھرانے کی گائیکی میں جو خلا پیدا ہوا وہ کوئی پورا نہیں کرپایا۔

استاد امانت علی خان کا انتقال 42سال کی عمرمیں1974ء میں ہوا۔

ان دنوں ان کے بیٹے شفقت امانت علی جدید اور کلاسیکی موسیقی کی امتزاج کے ساتھ گلوکاری میں مصروف ہیں ۔

XS
SM
MD
LG