رسائی کے لنکس

امریکی فوج کے مسلمان فوجی

  • عمران صدیقی

امریکی فوج کے ایک مسلمان جوان زکریا کلوان

امریکی فوج کے ایک مسلمان جوان زکریا کلوان

امریکہ میں رہنے والے مسلمان یہاں زندگی کے تقریبا ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن میں فوج بھی شامل ہے۔ تاہم نائین الیون کے بعد متعدد ایسے واقعات پیش آئے جن میں بعض مسلمانوں کو امتیازی رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان میں امریکی فوج کے ایک مسلمان جوان زکریا کلوان بھی شامل ہیں۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم فوجی چھاونی فورٹ ہڈ میں تعینات اس نوجوان فوجی نے وائس آف امریکہ کو اپنے کے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا۔

زکریا کلوان فوج میں ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پہلے ہفتے میں ہی، جب ہم اپنے ابتدائی تربیتی یونٹ میں ایک استقبالیے میں شریک تھے اور ڈرل سارجنٹ سب سے پوچھ رہے تھے کہ کون اپنے مذہی فرائض کی ادائیگی کے لیے کس عبادت گاہ میں جائے گا، پھر اس نے بڑے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کسی کو اسلامی عبادت گاہ میں جانے کی ضرورت ہے۔ تو میں نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا جس سے اسے شرمندگی کا احساس ہوا۔ اسے یہ دیکھنا پڑا کہ میں کون ہوں۔ پھر وہ مجھے چار سو ریکروٹوں کے پورے گروپ کے سامنے لایا کہ یہ مسلمان فوجی ہے۔ اس واقعہ نے میرے دل پر گہرا اثر کیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں زکریا کلوان نے کہا کہ اسلام کے بارے میں معلومات کی کمی، اور مسلمانوں کے خلاف میڈیا مہم کے باعث اکثر فوجیوں کی نظر میں ایک دہشت گرد اور ایک مسلمان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ان کے نزدیک یہ ایک ہی بات تھی۔ اور میں نے جلد ہی بحث مباحثوں اور روزمرہ کی عام گفتگو کے ذریعے ان میں سے تقریباً نصف کو اسلام کے بارے میں معلومات فراہم کیں، اور انہیں اسلام کے بارے میں پھیلائی جانے والے افواہوں کو جھٹلاتے ہوئے بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ ان میں سے اکثر نے میری بات سمجھ لی اور میرے ساتھ ان کے رویوں میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے میرے ساتھ اپنے دوسرے ساتھیوں جیسا ہی برتاؤ شروع کر دیا۔ تاہم وہاں ایک ایسا گروپ بھی تھا جس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ابتدا ہی سے مجموعی طور پر یہ ہی تاثر رکھتا تھا کہ مسلمان اور، دہشت گرد، کا مطلب ایک ہی ہے اور یہ دونوں لفظ براہ راست منسلک ہیں۔

زکریا کلوان مراکش نژاد امریکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف مٹھی بھر دہشت گردوں کو پورے مسلمان قوم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی کارروائیوں کے بارے میں یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ اسلام کی تعلیمات ہیں۔جب کہ اس طرح کے انتہاپسند گروپ عیسایت سمیت ہر مذہب اور عقیدے میں موجود ہیں، مگر انہیں اپنے مذہب کے نمائندے کے طورپر پیش نہیں کیا جاتا۔

زکریا کلوان نے اپنے انٹرویو کے دوران بتایا کہ انہوں نے محسوس کیا کہ فوج میں روزمرہ کی گفتگو، اور محاوروں میں بہت سی ایسی باتیں موجود تھیں جن سے اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک کا پہلو نکلتاتھا۔

جب کلوان کے خدشات کے بارے میں ان کی یونٹ کے انچارج کیپٹن کرسٹوفر اریٹا سے پوچھا گیاتو انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہر مذہب، ہر نسل کے لوگوں کے لیے ایک جیسا معیار رکھے بغیر یہ کہیں کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہیں تو یہ بہت ناانصافی ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم جب دوسرے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو ہم اس قسم کا تعصبانہ انداز نہیں اپناتے۔ ہم دوسرے لوگوں کے لیے سٹیروٹائپس استعمال نہیں کرتے، مثلاً میں اطالوی نسل سے ہوں۔لیکن لوگ جب میرے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ اطالوی یا آئرش لوگوں کے بارے میں پھیلے ہوئے عام روایتی سٹریو ٹائپس کوسامنے رکھ کر بات نہیں کرتے۔

کیپٹن کرسٹوفر اریٹا کا یہ بھی کہناتھا کہ ایک کمانڈر کے طورپر میرے لیے یہ اہم ہے کہ میں اپنے فوجیوں کے لیے ایک ایسی فضا پیدا کروں جہاں وہ سہولت کے ساتھ رہ سکیں اور اطمینان کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔ جہاں ہر کوئی ایک دوسرے پر اعتماد کرسکے۔ کیونکہ جنگ کے میدان میں چلے جانے کے بعد یہ سب کچھ کرنا بہت مشکل ہوجاتاہے۔

XS
SM
MD
LG