رسائی کے لنکس

اخوان المسلمین اور ’اینٹی کوو الائنس‘ نامی اتحاد کی جانب سے ’شہدا کا جمعہ‘ کے عنوان سے فوج کے خلاف عوامی مظاہروں کی وجہ سے تازہ جھڑپیں شروع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مصر میں فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کی جانب سے سابق صدر حسنی مبارک کی جیل سے رہائی کے بعد اخوان المسلمین نے جمعہ کو عوامی احتجاج کی اپیل کی ہے۔

انتیس برس تک مصر پر حکمرانی کرنے والے سابق فوجی کمانڈر کو جمعرات کو دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ نظر بند رہیں گے۔

پچاسی سالہ مسٹر مبارک کو اُن کے خلاف 2011ء میں کامیاب بغاوت میں شریک سینکڑوں مظاہرین کو ہلاک کرنے سے متعلق قانونی چارہ جوئی سمیت بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

مصر میں ایک عدالت نے رواں ہفتے مسٹر مبارک کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھیں عدالتی فیصلے سے قبل حراست میں رکھنے کی قانونی معیاد پوری ہو چکی ہے۔

عدالت کے اس اقدام پر اخوان المسلمین نے اظہار برہمی کیا تھا۔ جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کو گزشتہ ماہ برطرف کر دیا گیا تھا اور وہ تاحال قید میں ہیں اور اخوان ان کی عہدے پر بحالی کے لیے ملک بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں۔

اخوان المسلمین اور ’اینٹی کوو الائنس‘ نامی اتحاد نے ’شہدا کا جمعہ‘ کے عنوان سے فوج کے خلاف عوامی مظاہروں کی اپیل کی ہے، جس کی وجہ سے تازہ جھڑپیں شروع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مصری حکومت کا کہنا ہے کہ مسٹر مرسی کی برطرفی کے بعد ہونے والے سیاسی ہنگاموں میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگرچہ مرنے والوں میں اکثریت مظاہرین کی ہے، تاہم ان میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار بھی شامل ہیں۔

فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کے درجنوں عہدے داروں اور حامیوں کو گرفتار کر چکی ہے جن میں اخوان کے روحانی پیشوا محمد بدیع بھی شامل ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مسٹر مرسی کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی کیوں کہ اس کو لاکھوں افراد کی حمایت حاصل تھی جو مسٹر مرسی کے اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
XS
SM
MD
LG