رسائی کے لنکس

مسلم خواتین کے برقعہ پر بحث جاری


مسلم خواتین کے برقعہ پر بحث جاری

مسلم خواتین کے برقعہ پر بحث جاری

خواتین شناختی کارڈ کے لئےتصویر کھینچوا سکتی ہیں اور اس میں شریعت کسی طور پر بھی مانع نہیں: علما

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ برقعہ پوش مسلم خواتین کو شناختی کارڈ جاری نہیں کئے جائیں گے اور اگر وہ برقعہ پہننے پر بضد ہیں تو ان کو ووٹ دینے کے لئے نہیں آنا چاہئے اور نہ ہی وہ انتخابی عمل میں حصہ لے سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بالا کرشنن اور جسٹس دیپک ورما پر مشتمل دو رکنی بنچ کے اس فیصلے کے بعد مسلم دانشوروں اور علما کے درمیان ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک مسلم دانشور اصغر علی انجنیئر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جہاں پر مسلم اکثریت ہے وہاں بوتھوں پر پولنگ افسر اور پولنگ ایجنٹ عور ت ہی ہو۔ لیکن مولانا ابو ظفر حسن ندوی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو ایسا حکم جاری نہیں کرنا چاہیے تھا کہ جو مسلم عورتوں کو ووٹنگ کے وقت اپنا نقاب اٹھانے پر مجبور کر سکے۔

دہلی کے فتح پوری مسجد کے شاہی امام مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جو مسلم قوانین کے ماہر بھی ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک ہے، جس میں ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس ذیل میں پردے کی اجازت ہے اور وہ بھارت کی آزادی کے بعد سے اپنے اس حق کو پابندی کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے جمہوری فریضہ بھی انجام دے رہی ہیں۔ اگر مسلم خواتین پردے میں رہ کر ووٹ دینا چاہتی ہیں تو اس کی اجازت ہونی چاہئے اور اس پر اعتراض کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ افراد مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے انہوں نے مسلم خواتین کے لئے ووٹنگ لسٹ میں فوٹو کے ساتھ فارم کے اندراج کی پابندی لگائی ہے۔ جس پر مسلمانوں کا اعتراض بجا اوردرست ہے۔

مفتی مکرم نے فرمایا کہ ووٹنگ میں حصہ لینا ہمارا جمہوری حق ہے اور پردہ ایک مسلم خاتون کا مذہبی حق ہے۔ بھارت کی آزادی کے بعد سے تمام مسلم خواتین نے ہمیشہ بھر پور حصہ لیا ہے اور ووٹ کا استعمال کیا ہے۔ حکومت کو اس بات پر غور کرنا چاہئیے کہ جو مسلم خواتین ووٹر لسٹ میں فوٹو نہ لگوانا چاہیں انہیں اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ بصور ت دیگر اسے مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت سمجھا جائے گا۔

نئی دہلی کی شاہجہانی مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے کہا ہے کہ ہندوستانی آئین نے ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی ہے۔ اس لئے پردہ کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہماری مذہبی آزادی کے منافی ہے۔ بھارت میں کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ مسلم خواتین کو پردہ کرنا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پردہ کا تعلق مذہب سے ہے اور یہ شریعت کا حصہ ہے۔ اس کا تعلق ثقافت سے نہیں ہے۔ عدالت کی اس بات پر بھی جو مسلم خواتین چہر ہ نہیں دکھانا چاہتیں وہ ووٹ نہ دیں، اپنارد عمل ظاہر کرتے ہوئے مولانا بخاری نے کہا کہ اس کے بجائے عدالت عظمیٰ کو الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دینی چاہئے تھی کہ وہ پولنگ اسٹیشن پر پردہ نشیں خواتین کے لئے خاتون عملہ کا انتظام کرے۔ انہوں نے کہا کہ شرعی امور میں عدالتی فیصلوں سے بار بار مسائل اور تنازعے پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی باتوں سے عدلیہ کو احترازکرنا چاہئے۔

وہیں دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین اور مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن کمال فاروقی نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے متفق ہوں، کیونکہ جب حج کے لئے پاسپورٹ پر فوٹو لگایا جاتا ہے تب ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو پھر الیکشن شناختی کارڈ کے لئے ایسا اعتراض کیوں؟

لکھنؤ عید گاہ کے نائب اما م مفتی خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ شریعت قانون کے تحت پردہ مسلم خواتین کے لئے لازمی ہے لیکن اسلامی قانون خاص حالات میں مشروط طور پر اسے ہٹانے کی اجازت دیتا ہے۔ جمعیتہ العلماءہند کے سکریٹری اور ترجمان ابو الحسن نعمانی نے کہا کہ خاص ضرورت کے تحت مسلم خواتین کو چہرہ دکھانے کی اجازت ہے۔ اسے مذہبی شکل نہیں دینی چاہئے۔

دریں اثنا دارالعلوم دیو بند کے نائب مہتمم مفتی عبد الخالق مدراسی نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں تصویر لگانے یا شناختی کارڈ پر تصویر آویزاں کرنا غیر اسلامی نہیں ہے۔ مسلم عورتیں بغیر حجاب کے تصویر کھینچوا سکتی ہیں اور اس میں شریعت کسی طور پر بھی مانع نہیں۔

XS
SM
MD
LG