رسائی کے لنکس

امریکہ: الی نوائے اسمبلی کی نشست کے مسلمان امیدوار


ہریش پٹیل خود کو ایک آزاد ڈیموکریٹ کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں جن کا ریاست میں سرگرم ڈیموکریٹ پارٹی سے کوئی باقاعدہ تعلق نہیں۔

امریکی صدارتی امیداروں کے درمیان نامزدگی کی دوڑ میں ہونے والے پرائمری انتخابات لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ لیکن اسی دوران ریاست الی نوائے کے چالیسویں ڈسٹرکٹ میں پندرہ مارچ کو ہونے والے جنرل اسمبلی کے انتخابات میں ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔

شکاگو کے شمال مغرب میں واقع جنرل اسمبلی کا چالیسواں ڈسٹرکٹ (حلقۂ انتخاب) ایک عام ووٹر پال سک کا آبائی علاقہ ہے جنہیں سیاست کا موجودہ چلن پسند نہیں۔

پال سک کا کہنا ہے کہ ہزاروں ایسے سیاستدان ہیں جو شہر، ریاست اور قومی سطح پر ہماری نمائندگی کررہے ہیں لیکن حقیقت میں ان میں سے بہت تھوڑے لوگ ہیں جو اس منصب کے حق دار ہیں۔

پال سک نے بتایا کہ گزشتہ برس جب ان کی ملاقات ایک نئے امیدوار سے ہوئی تو مقامی سیاست کے متعلق انہیں امید کی ایک نئی کرن نظر آئی۔

ان کے بقول انتخابی مہم چلانے والے اس شخص نے اگرچہ اپنے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا لیکن مجھے لگا کہ وہ میرے جیسے خیالات رکھتا ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کے ساتھ مل کر کچھ کروں گا۔ اب پندرہ مارچ کو جنرل اسمبلی (ریاستی اسمبلی) کے لیے ہونے والے انتخابات میں میری اولین ترجیح ایک مسلمان امریکی تارک وطن ہریش پٹیل ہیں جو پہلی بار کسی عوامی عہدے کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔

ہریش پٹیل خود کو ایک آزاد ڈیموکریٹ کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں جن کا ریاست میں سرگرم ڈیموکریٹ پارٹی سے کوئی باقاعدہ تعلق نہیں۔ بقول ہریش، "میری ریاست نے میری کمیونٹی کی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا اسی لیے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے ضلعے میں جمہوریت کا بحران ہے۔"

ہریش جب 1999ء میں اپنی بیوہ والدہ کے ہمراہ امریکہ آئے تھے تو انھیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ لیکن بھلا ہو پبلک پروگراموں کی جن کی مدد سے انھوں نے کالج ڈگری حاصل کی اور اب وہ یہ قرض اتارنا چاہتے ہیں۔

ہریش کا کہنا ہے کہ آج وہ اس مقام پر اس لیے ہیں کہ کمیونٹی نے ان پر سرمایہ کاری کی۔ ان کے بقول اب بدلہ چکانے کی باری ان کی ہے کہ وہ کس طرح یہاں آنے والے دیگر لوگوں کے لیے وہی سہولتیں فراہم کرتے ہیں جو ماضی میں خود انھیں مل چکی ہیں۔

شکاگو کا چالیسواں ضلع ریاست کے نسلی طور پر متنوع علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں تین مساجد ہیں اور مسلمان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ پرائمری انتخابات میں پٹیل اور اسمبلی کے موجودہ رکن جیمی انڈریڈ کے درمیان دوبدو مقابلہ ہے۔ ان میں سے جو بھی جیتے گا وہ نومبر کے انتخابات بھی جیت سکتا ہے کیونکہ ان کے مدمقابل کوئی ری پبلکن امیدوار نہیں۔

پال سک کو ایک ووٹر ہی نہیں بلکہ پٹیل کی انتخابی مہم کے رکن کی حیثیت سے بھی یقین ہے کہ اگر ہریش پٹیل جیت جاتے ہیں تو یہ ایک تاریخی واقعہ ہو گا کیوں کہ ہریش الی نوائے جنرل اسمبلی کے پہلے مسلمان تارکِ وطن رکن ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG