رسائی کے لنکس

مسلم انتہا پسندی: جمعرات سے سماعتوں کا آغاز ہوگا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پیٹر کنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے زیادہ تر مسلمان پُر امن ہیں لیکن القاعدہ نے امریکہ میں نوجوان مسلمانوں میں انتہا پسندی پھیلانے اور انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوششیں تیز کر رکھی ہیں

جمعرات سے امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے ہوم لینڈ سیکورٹی میں سماعتوں یا ہیرنگز کے ایک سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جس میں امریکہ کی مسلمان آبادی میں انتہا پسندی کے رجحانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ سماعتیں کمیٹی کے چئیرمین نیو یارک کے ریپبلکن کانگریس مین پیٹر کنگ کی ایما پر کی جا رہی ہیں اور جب سے انہوں نے ان ہئیرنگز کا اعلان کیا ہے، نہ صرف یہ سماعتیں بلکہ خود کانگریس مین کنگ کی ذات بھی متنازعہ بن گئی ہے۔

پیٹر کنگ جو نیو یارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے تعلقات گیارہ ستمبر سے پہلے علاقے کی مسلمان کمیونٹی سے کافی اچھے تھے۔ بلکہ وہ اکثر اسلامک سنٹر آف لانگ آئی لینڈ جایا کرتے تھے۔ انیس سو نوے کی دہائی میں انہوں نے بوسنیا کی جنگ کے دوران مسلمانوں کی مدد کے لیے امریکی ایکشن کی حمایت بھی کی تھی۔

لیکن گیارہ ستمبر کے بعد ان تعلقات میں تلخی آ گئی۔ جس کی وجہ خود اپنی ویب سائٹ پر لگے ایک انٹرویو میں وہ یوں بتاتے ہیں۔’’میرے خیالات تب بدلے جب میں نے گیارہ ستمبر کے بعد امریکی مسلم برادری کا رد عمل دیکھا۔ جب مجھے لگا کہ وہ القاعدہ کی پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ جب وہ گیارہ ستمبر کی ذمہ داری یہودیوں پر یا ایف بی آئی پر یا سی آئی اے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میں کیا سن رہا ہوں۔‘‘

اس کے بعد مسلم کمیونٹی کے بارے میں ان کے کئی بیانات متنازعہ بنے۔ مثلًا انہوں نے کہا کہ کمیونٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون نہیں کر رہی۔

لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مسٹر کنگ کے بیانات منافقانہ ہیں کیونکہ مسٹر کنگ، جو ایک آئرش امریکی ہیں، انیس سو اسی کی دہائی میں آئی آر اے یا آئرش ریپلکن آرمی کے حامی تھے جسے اس وقت امریکی محکمہ خارجہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا تھا اور جس کے حملوں میں سینکڑوں معصوم شہری ہلاک بھی ہوئے۔

بعد میں امریکی صدر بل کلنٹن کو آئی آر اے سے مذاکرات پر راضی کرنے میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔ لیکن کانگریس مین کنگ کا کہنا ہے کہ آئی آر اے اور القاعدہ میں کوئی مماثلت نہیں۔ ایک تنظیم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی تھی جبکہ دوسری دنیا پر اپنی اقدار مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے زیادہ تر مسلمان پر امن ہیں لیکن القاعدہ نے امریکہ میں نوجوان مسلمانوں میں انتہا پسندی پھیلانے اور انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوششیں تیز کر رکھی ہیں جس کے نتیجے میں نیو یارک کے ٹائمز سکوئر پر پاکستانی نوجوان فیصل شہزاد کے ناکام بم حملے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG