رسائی کے لنکس

وزیراعظم کےترجمان نےکہا کہ ،''حکومت پارلیمنٹ سے ایسے قوانین نہیں بنوانا چاہتی ہے جو یہ طے کریں کہ ، لوگوں کو کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں پہننا چاہیے۔''

حال ہی میں نقاب پرپابندی کےحوالے سےہونے والی پیش رفت کے بعد برطانیہ میں نقاب کے معاملے پرسرکاری حلقوں میں سنجیدہ بحث چھڑگئی ہےجہاں اب یہ معاملہ برمنگھم کالج سےنکل کرحکومت کےایوانوں تک جا پہنچا ہے۔

ایک طرف وزراء کی جانب سےعوامی اجتماعات والی جگہوں پربرقع پہننے پر پابندی کے سلسلے میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پردباؤ ڈالاجا رہا ہے تو دوسری جانب حکومت قومی سطح پربرقع پرپابندی عائد کرنےکے حق میں نظر نہیں آتی ہے۔

وزیراعظم کےترجمان نےکہا کہ ،''حکومت پارلیمنٹ سے ایسے قوانین نہیں بنوانا چاہتی ہے جو یہ طے کریں کہ ، لوگوں کو کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں پہننا چاہیے۔''

برطانوی روزنامہ ڈیلی ٹیلی گراف کی خبر کے مطابق ، حکومت کی اتحادی پارٹی لبرل ڈیموکریٹس کے رکن اور وزیر داخلہ جریمی براؤن نے پیرکے روزحکومت سےنقاب پرپابندی کےمعاملےپرایک قومی مباحثے کا مطالبہ کیا ہےتاکہ ، اسکولوں اورعوامی اجتماعات والے مقامات پر اس پر پابندی سے متعلق غورکیا جاسکے۔

جریمی براؤن اپنی پارٹی کے پہلے وزیر ہیں جنھوں نے نقاب پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ یہ تجویز اس سے قبل کنزرویٹیوو اورٹوری پارٹی کے وزراء بھی دےچکے ہیں جو نقاب پرمکمل پابندی کے خواہاں ہیں۔

تاہم وزیرداخلہ کی اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والےنائب وزیراعظم نک کلیگ نے کہا کہ ،وہ عوامی اجتماعات والی جگہوں پربرقع یا نقاب پرپابندی کے معاملے پرحکومت کی حمایت نہیں کریں گے البتہ ان کا کہنا تھا کہ ، وہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی کلاسوں میں نقاب پہننے کو بھی درست خیال نہیں کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں دوسرے ملکوں کی تقلید میں لباس سے متعلق احکام صادر نہیں کرناچاہیے بلکہ برطانیہ وہ جگہ ہے جہاں تمام کمیونٹیز کواپنی شناخت اور عقیدے کے مطابق لباس پہننے کی پوری آزادی حاصل ہے۔

ہوم سیکرٹری تھریسامے نے منگل کے روز نقاب پر پابندی سے متعلق کہا کہ ،''میں نہیں سمجھتی کہ حکومت خواتین کو یہ بتائے کہ انھیں کیا پہننا چاہیے ''۔

برطانیہ میں نقاب پر پابندی کا معاملہ اس وقت اہمیت اختیار کرگیا جب گذشتہ ہفتےمیٹرو پولیٹن کالج برمنگھم میں برقع پر پابندی کےفیصلےکےخلاف طلبہ نےبڑے پیمانے پرایک احتجاجی مہم کا آغاز کیا جس کے بعد کالج انتطامیہ نے فیصلےکو واپس لیتے ہوئےکہا کہ ، کالج میں نقاب پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئےکیا گیا تھا ۔

کالج کا نقاب پرپابندی کاحکم واپس لینے پر رکن پارلیمنٹ ہولوبون جوعوامی اجتماعات والی جگہوں پر مسلمان خواتین کے پردہ کےخلاف ہیں، نے کالج کے فیصلے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ۔

وزیر اعظم کے ترجمان نے کالج میں نقاب پر پابندی کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ،وزیر اعظم اسکول کی گائڈ لائن اور ہیڈ ٹیچر کےاختیارات کی حمایت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ،وزیر اعظم اپنے بچوں کے اسکول میں نقاب پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ اسکول اور کالج کی بااختیار انتظامیہ کے ہاتھوں میں ہی ہونا چاہیے۔ تاہم وزیر اعظم کی پارٹی کے وزراء سمیت سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ،حکومت اسکول اور کالجوں کے موجودہ قواعد وضوابط کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

عدالت میں برقع پہننے کی اجازت:

برطانوی ہائی کورٹ کے ایک جج نے 22 سالہ مسلمان خاتون جنھوں نے اس سے قبل ایک پیشی میں بے پردہ ہونے سے انکار کر دیا تھا، عدالتی کارروائی کے دوران نقاب پہننے کی اجازت دے دی ۔جج مرفی نے پیر کے روزعدالت میں برقع پہننے سے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ، مدعا علیہ مقدمے کی سماعت کے دوران چہرہ ڈھانپ کر کھڑی ہو سکتی ہے لیکن شہادت دینے کے لیے چہرے پر سے نقاب اتارنا ضروری ہوگا ۔

ہسپتال کے عملے کے لیے نقاب پر پابندی :

محکمہ صحت کی جانب سے جنرل میڈیکل کونسل کو حکم دیا گیا ہے کہ ،ہیلتھ سروسز کے عملے کے یونیفارم سے متعلق پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائےاس پالیسی کے ذریعے نرسوں اور ڈاکٹروں کے برقع پہننے کے حق پر مریضوں کے ساتھ روبرو رابطےکو اولیت دی جا سکے گی ۔

گذشتہ روزٹیلی گراف کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ،برطانیہ کے این ایچ ایس کے 17 اسپتالوں نے خفیہ طور پربرقع پہننے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نےاپنے ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت مسلمان خواتین عملہ جو براہ راست مریضوں سے رابطہ رکھتا ہے، کے لیے چہرے پر نقاب پہننے کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انگلینڈ کے 160 اسپتالوں کو یونیفارم سے متعلق کوئی رہنما اصول نہیں دیے گئے اور اکثر اسپتالوں میں عملے کو برقع پہننےکی اجازت حاصل ہے ۔

تاہم وزیر صحت جریمی ہنٹ نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ’’اسپتال اپنے علاقے کے پس منظر کے حوالے سے خود یونیفارم کی پالیسی بنائیں یہ ایک مقامی نوعیت کا مسئلہ ہے اور اسے پروفشنل طریقے سے حل کیا جا نا چاہیئے ‘‘۔

جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے مطابق ،ایسے سرکاری ادارے جو ملازمین کے برقع پہننے پر پابندی کے سلسلے میں قواعد بنانا چاہتے ہیں حکومت ان کی حمایت کرےگی۔
XS
SM
MD
LG