رسائی کے لنکس

خواتین کے لیے نقاب نہ پہننے کی گنجائش موجود ہے: مولانا شیرانی

  • عشرت سلیم

پنجاب میں عورتوں کی حالت زار سے متعلق کمیشن کی چیئر پرسن فوزیہ وقار نے کونسل کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ قران میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ عورتوں کو چہرہ ڈھانپنا چاہیئے۔

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ شریعت میں مسلمان عورت کے لیے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں ڈھانپنا لازمی نہیں تاہم اس بارے میں احتیاط برتنی چاہیئے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے کونسل کے ایک اجلاس کے بعد منگل کو کہا کہ ایسی صورت حال جہاں ضرورت ہو اور فتنے کا اندیشہ نا ہو تو عورتوں کے لیے چہرے، ہاتھ اور پاؤں سے پردہ ہٹانے کی گنجائش موجود ہے۔

مگر ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پردہ کرنا مستحسن ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی عورتوں سے متعلق مسائل پر کونسل سفارشات دے چکی ہے مگر ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عورتوں کے پردے سے متعلق بات کی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی رائے وزارت داخلہ کی درخواست پر دی کہ بہت سی عورتیں اس بنا پر شناختی کارڈ نہیں بنواتی کیونکہ اس کے لیے تصویر کھنچوانا لازمی ہے اور وہ اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتیں۔

تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن سمعیہ راحیل قاضی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ڈاکٹروں کی ایک تنظیم کا ایک مراسلہ موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے لیے کچھ مسائل پر رہنمائی مانگی تھی جن میں پردے کا مسئلہ بھی شامل تھا۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی سمیعہ راحیل قاضی نے کہا کہ اس مسئلے کا متفقہ طور پر یہ جواب دیا گیا ہے کہ قران میں باہر نکلتے وقت عورتوں کے لیے حجاب لازم قرار دیا ہے لیکن جہاں اسے کوئی خوف نہ ہو وہاں وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کھول سکتی ہے۔

’’میں نے اپنی رائے بھی یہی دی کہ اگرچہ میں اس خاندان اور اس جماعت سے تعلق رکھتی ہوں جس میں چہرے کا پردہ واجب ہے۔ میں خود ذاتی طور پر نقاب ہی کرتی ہوں اور ہماری جماعت میں بھی نقاب کو ہی ترجیح دی جاتی ہے مگر جو لوگ نہیں کرتے ہمیں انہیں بے حجاب نہیں سمجھنا چاہیئے۔‘‘

پنجاب میں عورتوں کی حالت زار سے متعلق کمیشن کی چیئر پرسن فوزیہ وقار نے کونسل کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ قران میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ عورتوں کو چہرہ ڈھانپنا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے ایسا کرنا چاہے تو یہ اس کا حق ہے اور اسے زبردستی روکنا نہیں چاہیئے۔

تاہم ان کے بقول بہت سی عورتوں کو زبردستی نقاب کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

’’زیادہ تر خواتین جو بہت اپنا منہ ڈھانپتی ہیں انہوں نے اس کا انتخاب نہیں کیا ہوتا بلکہ ان پر یہ بات مسلط کی گئی ہوتی ہے۔ مسلط کرنے کے دو طریقے ہیں کہ خاندان والے بچپن سے اسے کہیں کہ تم نے لازمی اپنا چہرہ ڈھانپنا ہے۔ دوسرا جس ماحول میں آپ پلی بڑھیں اس میں آپ کو یہ پیغام دیا جائے کہ اسی سے پتا چلتا ہے کہ عورت اچھے کردار کی ہے تو یہ مسلط کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے عورتیں تعلیم اور ترقی کے بہت سے مواقع سے محروم رہتی ہیں۔

آئین کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کوئی قانون اسلام کے منافی تو نہیں مگر پارلیمان یا حکومت کونسل کی رائے پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG