رسائی کے لنکس

’مس مسلمہ‘ مقابلے میں صرف وہی خواتین شرکت کر سکتی ہیں جو روز مرہ زندگی میں بھی حجاب کی پابندی کرتی ہیں

کیا آپ نے کبھی مسلمان خواتین کا ایسا مقابلہ ِ حسن دیکھا ہے جس میں شامل تمام خواتین نے سر پر حجاب لیا ہو؟ ۔۔۔ اگر نہیں، تو آپ کو جان کر یہ حیرت ہوگی کہ انڈونیشیا میں مسلمان خواتین کا ایسا ہی مقابلہ ِ حسن ’مس مسلمہ 2013‘ کے نام سے منعقد کیا گیا، جس میں تمام خواتین سر پر حجاب لیے نظر آئیں۔

اس مقابلہ ِحسن کو اہل ِاسلام کی جانب سے ’مس ورلڈ‘ کا جواب قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں صرف ایسی مسلمان خواتین کو شرکت کی اجازت دی جاتی ہے جو حجاب کرتی ہوں۔

اس مقابلے میں بہت سے مسلمان ممالک کی خواتین نے شرکت کی جس میں ایران اور نائیجیریا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

اس مقابلے کے انعقاد کا آغاز ایکا شانتی نے کیا، جو ایک ٹی وی اینکر تھیں اور جنہیں حجاب نہ اتارنے کی پاداش میں ٹی وی کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

ایکا شانتی کہتی ہیں کہ جکارتہ میں منعقد کیے جانے والا یہ مقابلہ ِ حسن، بالی میں منعقد کیے جانے والے متنازع مس عالمی مقابلے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ایکا شانتی کے مطابق حجاب میں ملبوس مسلمان خواتین کا یہ مقابلہ ِ حسن روایتی مقابلہ ِ حسن سے ہٹ کر ہے جس میں خواتین باحجاب ہو کر شرکت کرتی ہیں۔

’مس مسلمہ‘ مقابلے میں صرف وہی خواتین شرکت کر سکتی ہیں جو روز مرہ زندگی میں بھی حجاب کی پابندی کرتی ہیں۔ مقابلے میں شریک خواتین کے درمیان قرآنی آیات پڑھنے اور اسلام اور جدید دنیا کے حوالے سے ان کی رائے بھی دریافت کی گئی۔

دوسری طرف 28 ستمبر کو جکارتہ کے مضافاتی علاقے میں خواتین کے 63 ویں عالمی مقابلہ ِ حسن کے اعلان پر انڈونیشیا میں بعض عناصر کی جانب سے شدید رد ِ عمل سامنے آیا تھا اور اس حوالے سے مظاہرے بھی کیے گئے۔

جس کے بعد عالمی مقابلہ ِ حسن کے منتظمین نے وعدہ کیا کہ مقابلے میں شریک خواتین کو مختصر لباس پہننے کی اجازت نہیں ہوگی اور مقابلے میں شریک خواتین مختصر لباس کی بجائے تہمد پہنیں گی۔

انڈونیشی حکومت کی مداخلت کے بعد یہ مقابلہ جکارتہ کی بجائے ہندو اکثریت والے جزیرے اور انڈونیشیا کے صوبے بالی میں منعقد کیا جائے گا، جہاں 8 ستمبر کو عالمی مقابلہ ِ حسن کو باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔

برطانوی، امریکی اور آسٹریلیا کے سفارتخانوں نے تنبیہہ جاری کی ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے خواتین کے عالمی مقابلہ ِ حسن پر حملے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب ’مس مسلمہ‘ کے مقابلے میں رواں برس ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دیگر ممالک کی مسلمان خواتین کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

21 سالہ اوبے بی ای اجی بولا، جن کا تعلق نائجیریا سے ہے اس مقابلے میں اول آئیں۔ انہیں دو ہزار ڈالر کے ساتھ ساتھ مکہ اور بھارت جانے کا ٹکٹ بھی دیا گیا۔
XS
SM
MD
LG