رسائی کے لنکس

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ


ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

بحرالکاہل کے پانیوں میں موجود کئی جزیروں پر مشمل امریکی ریاست ہوائی اپنے خوشگوار موسم اور سیاحت کے لئے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے ۔ اس کے ایک جزیرے اواہو میں ہونو لولو کا شہر واقع ہے جو اس ریاست کا دارلخلافہ بھی ہے۔ ہونو لولو میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا ۳ سے ۴ ہزار کے درمیان ہے اور ایک بڑی مسجد بھی قائم ہے۔ ہوائی کے مسلمان ہوائی مسلم ایسو ایشن کے زیر انتظام ہوائی کی ریاست میں ہر سال 24 ستمبر کو اسلام ڈے کے نام سے ایک دن بھی مناتے ہیں جسے ہوائی کی ریاستی اسمبلی میں ایک قرارداد کے تحت قانونی شکل دی گئی تھی۔

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ہوائی کی مسجد کے امام حکیم اونصافی کے مطابق اس ریاست میں مسلمانوں کی آمد کے آثار سترویں صدی میں ملتے ہیں جب فلسطین سے مسلمان ملاحوں نے اس ریاست کا رخ کیا تھا۔ موجودہ مسلم ایسوایشن کا آغاز 1960 کی دہائی میں یونیورسٹی آف ہوائی میں ہوا تھا ۔

لیکن اس ریاست میں واقع ایک گھر اسلامی ملکوں کی ثقافت اور آرٹ کی ایک دلکش تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ ان جزیروں پر بسنے والے لوگوں کے لیے یہ گھر اسلامی دنیا کے آرٹ اور کلچر کی ایک جھلک ہے ۔ دکھنے میں یہ گھر کسی مغلیہ دور کی عمارت جیسا ہے لیکن اس کو بنانے والی ایک مالدار امریکی خاتون تھیں ۔

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ساحل سمندر پر ۱۴ ہزار فٹ کے رقبے پر بنا یہ حویلی نما گھر ، جو شانگری لا کے نام سے موسوم ہے ، اس جزیرے پر سیاحت کے آنے والی ایک امریکی خاتون ڈورس ڈیوک نے 1930 کی دہائی میں اس وقت تعمیر کروایا تھا جب یہ جزیرے امریکہ کا حصہ نہیں تھے۔ڈورس ڈیوک کا شمار اس وقت دنیا کی امیر ترین خواتین میں ہوتا تھا۔

ڈورس ڈیوک نے دنیا کے سفر کے دوران بہت سے اسلامی ممالک دیکھے ۔ انھیں وہاں کا آرٹ اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے اس جزیرے پر اپنی رہائش گاہ کو مختلف ملکوں کے آرٹ سے سجا دیا، لیکن ان تمام ممالک میں سے عرب اور بر صغیر پاک و ہند کی ثقافت کا رنگ یہاں سب سے نمایاں ہے۔

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ہوائی کی اسمبلی کی رکن لائلہ برگ کا کہنا ہے ڈورس ڈیوک ایک ارب پتی خاتون تھیں اور انھیں اسلامی دنیا کے فن اور ثقافت سے بہت لگاو تھا۔یہاں ہوائی میں انھوں نے اپنا گھر اسی شوق کو مد نظر رکھ کر بنایا اور اسے اسلامی دنیا کی ثقافت اور فنون کے لیے وقف کردیا۔

آج یہ گھر ہوائی سینٹر فار اسلامک آرٹ کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہوائی آنے والے لاکھوں سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس گھر کو برصغیر پاک و ہند، شام، ایران اور مراکش کے طرز تعمیر پر سجایا گیا ہے۔ جبکہ یہاں اسلامی ممالک سے لائے گئے آرٹ کے ساڑھے تین ہزار سے زائد نمونے رکھے گئے ہیں۔ دیواروں پر کندہ کاری ، شیشے اور لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ جبکہ مختلف کمروں کو اسلامی ملکوں کی طرزپر سجایا گیا ہے ۔

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

یہ گھر ڈورس ڈیوک فاونڈیشن کے زیر اہتمام ہوائی سینٹر فار اسلامک آرٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس میوزیم نما گھر کی منتظم کیرول کیوہاک کا کہنا ہے کہ یہاں آنے والے زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ اسلامی دنیا کا پہلا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ اس خوبصورت آرٹ کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اسے یہاں دیکھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ ان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں شاید کچھ باتیں ہوں، لیکن یہاں آکر وہ اسلامی دنیا کی اقدار کے بارے میں اور اسکی تہزیب و ثقافت کے بارے میں متجسس ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ہوائی کے مقامی لوگوں کے لیے یہ جگہ کسی عجائب گھر سے کم نہیں۔ کیونکہ مقامی لوگ جو کبھی اس جزیرے سے باہر گئے ہی نہیں، ان کے لیے یہ گھر اسلام کی تہذیب و ثقافت کی طرف پہلا قدم ہے۔ اور وہ اسلام کی تاریخ کے بارے میں بھی جاننا چاہتے ہیں۔

کیرول کیوہاک نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کی ثقافت ہمیشہ سے باقی دنیا کے لیے کشش کا باعث رہی ہے اور اسی ثقافت اور آرٹ کے ذریعے آج کی دنیا میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا قدم ہے کہ آپ لوگوں کے اندر دلچسپی پیدا کریں۔ پھر ان کے ذہنوں کو بدلنے کی کوشش کریں۔ جب لوگ کسی حیران کن چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں اور یہیں سے سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے ۔

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

ریاست ہوائی میں اسلام کے رنگ

یہاں آنے والے لوگ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ آیا اس گھر کی مالک ڈورس ڈیوک نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں۔ لیکن ان کاکہنا ہےکہ اس بارے میں کوئی مستند معلومات موجود نہیں۔لیکن یہ بات ضرور ہے کہ انھیں اسلام سے گہرا لگاو تھا اور انھیں ان لوگوں نے بہت متاثر کیا تھا جنھیں وہ اسلامی ملکوں میں ملیں تھیں۔

ہوائی کے اس دور دراز اور باقی دنیا سے بالکل الگ جزیرے پر آنے والے سیاح اس گھر کے بارے میں کم ہی جانتے ہیں ۔ کیرول کیوہاک کا کہنا ہے وہ صرف پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ہی سیاحوں کو آنے کی اجازت دیتے ہیں اور لوگ خود سے یہاں نہیں آسکتے ۔لیکن اس کے باوجود یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں سال ہا سال سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے ناصرف خصوصی گائیڈڈ ٹورز ترتیب دیے جاتے ہیں بلکہ طلبا اور عام لوگوں کے لیے اسلامی ثقافت ، تہذیب و تمدن اور فنون لطیفہ کے حوالے سے تعلیمی پروگرام بھی موجود ہیں۔

اس گھر کی مالکن ڈورس ڈیوک ۱۹۹۳ میں اس دنیا سے رحلت فرما گئیں لیکن انھوں نے اپنی وصیت میں اپنے اس گھر کو شانگری لا کا نام دیا اور اسے اسلامی دنیا کے آرٹ اور کلچر کی ترویج اور حفاظت کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG