رسائی کے لنکس

توہین آمیز فلم کے خلاف مسلم دنیا میں احتجاج جاری


افغانستان میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کا منظر

افغانستان میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کا منظر

امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف مسلم ممالک میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا میں مزید احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف مسلم ممالک میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا میں مزید احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

احتجاج کا سلسلہ گزشتہ منگل کو لیبیا سے شروع ہوا تھا جہاں سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے بن غازی شہر میں قائم امریکی قونصل خانے پر حملہ کرکے لیبیا میں تعینات امریکی سفیر اور ان کے تین معاونین کو ہلاک کردیا تھا۔

بعد ازاں مظاہروں کا یہ سلسلہ مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں پھیل گیا تھا جس کے بعد سے اب تک کئی مسلم ممالک میں احتجاجی مظاہرین کی جانب سے امریکی و یورپی ممالک کے سفارت خانوں اور سفارتی مشنز میں توڑ پھوڑکے واقعات پیش آچکے ہیں۔

پیر کو پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختوانخواہ کے ضلع اپر دیر میں سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے دورانِ احتجاج مقامی پریس کلب کی عمارت اور ایک سرکاری دفتر کو نذرِ آتش کردیا۔

پاکستان کے شہروں کراچی اور لاہور میں بھی بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دونوں شہروں میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی جس پر ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جن میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی فوجی اڈے کے باہر ہونے والے ایک بڑے مظاہرے کے شرکا نے احتجاج کے دوران کم از کم دو پولیس موبائلوں کو نذرِ آتش کردیا اور پولیس اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات پر پتھرائو کیا۔

مذکورہ فلم کے خلاف افغانستان میں ہونے والا یہ پہلا بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا جس میں تشدد کا عنصر در آیا۔ مظاہرین نے امریکہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذرآتش کیے۔

اس موقع پر مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 50 افغان پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تاہم پولیس افسران کا کہنا ہے کہ سخت جدوجہد کے بعد مشتعل مظاہرین پر قابو پالیا گیا اور تشدد کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

پرتشدد مظاہروں کے پیشِ نظر کابل کے وسطی علاقے قائم مغربی ممالک کے سفارت خانوں کی سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔

ادھر انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں بھی امریکی سفارت خانے کے باہر توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے سیکڑوں افراد کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

مظاہرین نے سفارت خانے کی عمارت پر پتھرائو کیا، 'فائر بم' پھینکے اور عمارت کے باہر ٹائر نذرِ آتش کیے۔ مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے باہر امریکی پرچموں اور صدر اوباما کی تصویر کو بھی آگ لگادی۔

مذکورہ فلم کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاج کے دوران میں انڈونیشیا میں اس نوعیت کا یہ پہلا احتجاجی مظاہرہ تھا۔

جکارتہ کے علاوہ میدان اور بنڈونگ سمیت انڈونیشیا کے کئی دیگر شہروں میں بھی مسلمانوں نے اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ فلسطین کے شہر رملہ میں بھی ہزاروں افراد نے پرامن احتجاج کیا۔

اس سے قبل اتوار کو بھی برطانیہ، آسٹریلیا، ترکی اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

دریں اثنا امریکہ نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مقامی مسلمانوں کی جانب سے اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے بعد منگل کو اپنا سفارت خانہ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

تھائی لینڈ میں قائم امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ملک میں موجود امریکی شہریوں کو عوامی مقامات پر احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG