رسائی کے لنکس

داعش کی آنگ سان سوچی کو مبینہ دھمکی، تحقیقات کا آغاز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ترجمان نے مزید کہا کہ آنگ سان سوچی کی سکیورٹی کے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں اور میانمار کے حکام ایسی دھمکیوں کو کم اہم تصور نہیں کریں گے۔

میانمار کے حکام نے عراق و شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش کی طرف سے ملک کی معروف سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کو قتل کرنے کی مبینہ دھمکیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دھمکی دو صفحات پر مشتمل ایک خط کے ذریعے دی گئی ہے جس کا عنوان ’’ آئی ایس انکامان یعنی (داعش کی دھمکی)‘‘ تھا اور وہ ملائیشیا کی نیگری سیمبلان ریاست کے نلائی شہر کی پولیس کے نام بھیجا گیا تھا۔

سیمبلان ملائیشیا کی 13 ریاستوں میں سے ایک ہے اور یہ ملک کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔

ملائیشیا کی ایک نیوز ویب سائیٹ 'ملائسیا کنی' کے مطابق اس خط میں ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق، ان کے نائب احمد زاہد حمیدی، ملک کے اٹارنی جنرل محمد آفندی اور پولیس کے سربراہ خالد ابوبکر کو بھی دھمکی دی گئی ہے۔

نیوز ویب سائیٹ نے ملائیشیا کے چینی زبان میں شائع ہونے والے اخبار 'چائنا پریس' کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھمکی آمیز خط میں آنگ سان سوچی اور ملائیشیا کے رہنماؤں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

میانمار کے صدر کے ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میانمار کے حکام کو ملائیشیا کے حکام نے سرکاری طور پر اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے (تاہم) ان کی حکومت ان ذرائع کی صداقت اور ان کے قابل اعتبار ہونے کے معاملے کی تحقیقات اور ان کا تجزیہ کر رہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ آنگ سان سوچی کی سکیورٹی کے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں اور میانمار کے حکام ایسی دھمکیوں کو کم اہم تصور نہیں کریں گے۔

وزیر اعظم رزاق کی دعوت پر آنگ سان سوچی کے دورہ ملائیشیا کی توقع کی جارہی ہے، تاہم اس کی تاریخوں کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

انتہا پسند تنظیم داعش مشرقی ایشیا کے علاقوں میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ جون میں داعش کی ایک وڈیو میں دکھائے گئے ایک جنگجو نے خود کو ملائیشیا کا شہری قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں سکیورٹی اہلکاروں کو دھمکی دی تھی۔

میانمارکی آبادی کی اکثریت بدھ مذہب کے ماننے والوں کی ہے اور یہاں طویل عرصے تک فوجی حکومت اقتدار میں رہی۔ گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی تھی یہ انتخابات 1990 کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے آزادنہ انتخابات تھے۔

XS
SM
MD
LG