رسائی کے لنکس

چاؤ ون کا کہنا ہے کہ انھیں اب تک معلوم نہیں تھا کہ ان کی ڈگری جعلی ہے۔ اخبار میانمار ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "میں اب خود کو ڈاکر نہیں کہوں گا کہ مجھے اب معلوم ہو گیا ہے کہ یہ جعلی یونیورسٹی تھی۔"

میانمار کی نئی کابینہ کے لیے ایک نامزد وزیر کی اعلیٰ تعلیمی سند جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو انھوں نے اس آن لائن امریکی یونیورسٹی سے حاصل کی تھی جو انٹرنیٹ پر جعلی ڈگریاں دینے والی یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہے۔

چاؤ کن کو آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی "این ڈی ایل" کی طرف سے نئی کابینہ میں اقتصادیات کا وزیر نامزد کیا گیا تھا۔

چاؤ ون کا کہنا ہے کہ انھیں اب تک معلوم نہیں تھا کہ ان کی ڈگری جعلی ہے۔ اخبار میانمار ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "میں اب خود کو ڈاکر نہیں کہوں گا کہ مجھے اب معلوم ہو گیا ہے کہ یہ جعلی یونیورسٹی تھی۔"

وہ مختلف جریدوں میں اقتصادیات اور معاشیات میں ڈاکٹر چاؤ ون اور ایم چاؤ ون کے نام سے مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے 2005ء میں کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی سے رابطہ کیا لیکن وہ اس میں داخلہ لینے میں ناکام رہے۔ بعد ازں 2008ء میں انھوں نے بروکلین پارک یونیورسٹی میں آن لائن کورس میں داخلہ لیا اور پڑھائی شروع کی جسے ان کے بقول وہ مکمل نہیں کر سکے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ معاملہ آنے کے بعد بھی چاؤ ون میانمار کی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیے جائیں گے یا نہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے گزشتہ سال مئی میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں قائم ایک سافٹ ویئر کمپنی "ایگزیکٹ" نے مبینہ طور پر تقریباً 370 تعلیمی ویب سائٹس بنا کر جعلی ڈگریوں کا کارروبار کیا اور دنیا بھر سے لاکھوں ڈالر بٹورے۔

اس سلسلے میں پاکستانی حکام نے کمپنی کے مالک اور بعض دیگر عہدیداروں کو گرفتار کر کے مقدمہ شروع کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG