رسائی کے لنکس

ٹن چا میانمار کے نئے صدر منتخب


ٹن چا اپنی جماعت کی رہنما سوچی کے ہمراہ

ٹن چا اپنی جماعت کی رہنما سوچی کے ہمراہ

فوج کی طرف سے جنرل مائن سووے صدر کے منصب کے لیے امیدوار تھے۔ وہ ینگون کے وزیراعلیٰ ہیں اور تین صدارتی امیدواروں میں سے دوسرے نمبر پر آنے کی وجہ سے نائب صدر بن گئے ہیں۔

میانمار کی پارلیمان نے ٹن چا کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) سے تعلق رکھنے والے چا کو 652 میں سے 360 ووٹ ملے۔

ٹن چا سابق بیوروکریٹ ہیں، وہ پارلیمان کے رکن تو نہیں لیکن این ایل ڈی کی رہنما آنگ سان سوچی کے معتمد خاص ہیں۔

میانمار کے عوام کی اکثریت نوبل انعام یافتہ سوچی کو بطور صدر دیکھنے کی خواہشمند رہی ہے لیکن وہ آئین کی ایک شق کے تحت اس منصب پر فائز ہونے کی اہل نہیں۔

ان کے بچوں کے پاس غیر ملکی شہریت ہے اور آئین کے مطابق ایسا شخص جو خود یا اس کے اہل خانہ کے پاس غیر ملکی شہریت ہو تو وہ اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز نہیں ہو سکتا۔

تاہم سوچی یہ کہہ چکی ہیں وہ صدر سے بھی "بلند" منصب رکھتی ہیں۔

ملک کی فوج بدستور اقتدار میں ایک اہم حصہ رکھتی ہے اور طاقتور ہے کیونکہ پارلیمان میں ایک چوتھائی نشستیں اس کے پاس اور کئی اہم وزارتیں بھی اس کے تصرف میں ہوں گی۔

فوج کی طرف سے جنرل مائن سووے صدر کے منصب کے لیے امیدوار تھے۔ وہ ینگون کے وزیر اعلیٰ ہیں اور تین صدارتی امیدواروں میں سے دوسرے نمبر پر آنے کی وجہ سے نائب صدر بن گئے ہیں۔

ریاست چن کی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ہنری وان تھیو انتخاب میں تیسرے نمبر پر رہے اور وہ ملک کے دوسرے نائب صدر ہوں گے۔

میانمار جسے برما بھی کہا جاتا ہے بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت والا ملک ہے اور اس کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد ہے۔

XS
SM
MD
LG