رسائی کے لنکس

قرارداد میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ روہنگیا کے ارکان کو ’مکمل شہریت‘ دی جائے، اور اُنھیں بنگالی کے بجائے روہنگیا کے طور پر اپنی شناخت کی اجازت دی جائے، نا کہ جیسے حکومت چاہتی ہے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں میانمار سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک کی محصور روہنگیا اقلیت کو شہریت اور مساوی حقوق دے۔

پیر کے روز کثرتِ رائے سے منظور ہونے والی قرارداد میں جنرل اسمبلی نے اِس زیادہ تر مسلمان اقلیتی گروہ کے ساتھ میانمار کی طرف سے روا رکھے گئے سلوک پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا۔


روہنگیا کی آبادی 140000 نفوس پر مشتمل ہے، جو ریاستِ رخائین میں گنجان آباد خیموں میں ابتر حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جہاں جون 2012 سے جاری فرقہ واریت پر مبنی کشیدگی کے باعث 280 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

میانمار کا دوسرا نام برما ہے۔ میانمار روہنگیا نسل کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، متعدد مقامی اور سرکاری اہل کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔

اقوام متحدہ کی قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ گروپ کے ارکان کو ’مکمل شہریت‘ دی جائے، اور اُنھیں بنگالی کے بجائے روہنگیا کے طور پر اپنی شناخت کی اجازت دی جائے، نا کہ جیسے حکومت اس کے برعکس بضد ہے۔


قرارداد میں میانمار سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ روہنگیا کو خدمات تک ’مساوی رسائی‘ فراہم کی جائے اور حکومت کی حفاظت میں اپنی برادریوں کی طرف لوٹنے کی اجازت دی جائے۔

XS
SM
MD
LG