رسائی کے لنکس

برمی مسلمانوں پر تشدد، پاکستان اور سعودی عرب کی تشویش


پاکستانی صدر آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

پاکستانی صدر آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

صدر زرداری نےخط میں برمی صدر تھین سین سے متاثرہ مسلمان خاندانوں کی بحالی کےعمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے برما کے ہم منصب کے نام ایک خط میں ریاست راکین میں بھڑکنے والے نسلی فسادات میں روہنگیا مسلمان اقلیت کے جانی و مالی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایوانِ صدر سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستانی رہنما نےخط میں برمی صدر تھین سین سے متاثرہ مسلمان خاندانوں کی بحالی کےعمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ کر ایک محفوظ زندگی گزار سکیں۔

’’مسلمانوں کے نقصانات کے بارے میں جان کر پاکستان میں عوام افسردہ اور اُن کی حالت زار پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔‘‘

اُدھر سعودی عرب نے بھی برما پر ملک کی مغربی ریاست راکین میں اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کا نسلی صفایا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے توسط سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی کابینہ اکثریتی آبادی کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسلی صفائی کی مہم اور ظالمانہ حملوں سمیت انھیں اپنا آبائی وطن چھوڑنے کے لیے مجبور کرنے کی مذمت کرتی ہے۔

شاہ عبداللہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں برمی مسلمانوں کو تحفظ، انسانی زندگیوں کے مزید ضیاع اور روہنگیا اقلیت کو میعار زندگی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم نے اتوار کو روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے او آئی سی مشن بھیجنے کی تجویز دی تھی۔

برما میں سرکاری طور پر راکین ریاست میں جون میں بھڑکنے والے نسلی فسادات میں اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتےنیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کے برما کی فوج کے اہلکار نہ صرف نسلی فسادات کے ابتدائی ایام میں خاموش تماشائی بنے رہے، بلکہ وہ بھی روہنگیا مسلمانوں کو قتل کرنے، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور خواتین کی عصمت دری جیسے جرائم کا حصہ تھے۔

برما کے قوانین کے تحت 8 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ انھیں بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکین تصور کیا جاتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG