رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی: ن لیگ کو برتری، تحریکِ انصاف کی دوسری پوزیشن


غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کو لگ بھگ 100 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ تحریکِ انصاف 35 کے لگ بھگ نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان میں ہفتے کو ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں جن کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ (نواز) سب سے آگے ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کو لگ بھگ 100 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ تحریکِ انصاف 35 کے لگ بھگ نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی لگ بھگ 30 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر نظر آرہی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت بنانے کے لیے قومی اسمبلی کی براہِ راست منتخب کی جانے والے 272 نشستوں میں سے کسی بھی جماعت کو 137 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔

لیکن اب تک آنے والے غیر سرکاری نتائج سے ظاہر ہورہا ہے کہ مسلم لیگ نواز سادہ اکثریت حاصل نہیں کرپائی ہے اور اسے حکومت سازی کے لیے آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کو ساتھ ملانا ہوگا۔

صوبوں میں بھی نواز لیگ کو سوائے پنجاب کے کہیں اور قابلِ ذکر نشستیں حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔


خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر تحریکِ انصاف کو واضح برتری برتری حاصل ہے اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی 124 رکنی صوبائی اسمبلی میں بھی سادہ اکثریت حاصل کرلے گی۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی 99 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جب کہ خواتین کے لیے 22 اور اقلیتوں کے لیے 3 نشستیں مختص ہیں۔

حیرت انگیز طور پر صوبے کی سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی قومی اسمبلی کی کوئی ایک نشست بھی حاصل نہیں کرپائی ہے اور اسے بیشتر حلقوں میں تحریکِ انصاف کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سمیت پارٹی کے کئی مرکزی رہنما انتخاب ہار گئے ہیں۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پشاور سے قومی اسمبلی کی نشست 'این اے – 1' سے کامیاب ہوگئے ہیں جب کہ ان کے مدِ مقابل امیدوار اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔

پشاور ضلع سے قومی اسمبلی کی تمام نشستوں پر تحریکِ انصاف کے امیدواران فیصلہ کن برتری حاصل کرچکے ہیں جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر روالپنڈی میں بھی تحریکِ انصاف کے امیدواروں کو مسلم لیگ (نواز) پر برتری حاصل ہے۔


پنجاب

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ن لیگ اکثریتی جماعت بن کر ابھر رہی ہے جہاں اسے بیشتر نشستوں پر تحریکِ انصاف کے امیدواروں سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

غیر حتمی ابتدائی نتائج کے مطابق ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست پر تحریکِ انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد پر فیصلہ کن سبقت حاصل کرلی ہے۔

میاں نواز شریف نے سرگودھا کی نشست 'این اے - 68' پر بھی غیر حتمی نتائج کے مطابق بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

ن لیگ کے گڑھ سمجھے جانے والے لاہور شہر سے قومی اسمبلی کی کئی نشستوں پر پارٹی کو تحریکِ انصاف کے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا لیکن صوبے کی سابق حکمران جماعت شہر کی بیشر نشستوں پر فیصلہ کن برترعی حاصل کرلی ہے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور شہر کی نشست سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار سردار ایاز صادق کے ہاتھوں غیر حتمی نتائج کے مطابق 10 ہزار ووٹوں سے شکست اٹھانی پڑی ہے۔

تاہم قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے انتخاب لڑنے والے عمران خان نے غیر حتمی نتائج کے مطابق پشاور سے کامیابی حاصل کرلی ہے جب کہ ٹی وی رپورٹس کے مطابق انہیں راول پنڈی اور میانوالی کے حلقوں میں اپنے حریفوں پر سبقت حاصل ہے۔

راول پنڈی کی نشست 'این اے - 55' سے تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی ن لیگ کے امیدوار شکیل اعوان کو ہر کر قومی اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں۔

پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد سے بھی قومی اور صوبائی کی بیشتر نشستوں پر غیر حتمی نتائج کے مطابق ن لیگ کے امیدوار کامیاب رہے ہیں۔


سندھ

دیہی سندھ سے قومی اسمبلی کی بیشتر نشستوں پر سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ کے شہری علاقوں میں اس کی سابق اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کو برتری حاصل ہے۔

غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) دیہی سندھ میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے اہم رہنمائوں فریال ٹالپور، خورشید شاہ، اعجاز جاکھرانی اور مخدوم امین فہیم کو بھی غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقوں میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست 'این اے - 250' کا نتیجہ دھاندلی کی شکایات کے سبب روک لیا گیا ہے۔


بلوچستان

صوبہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر متفرق نتائج سامنے آرہے ہیں جن میں قوم پرست جماعتیں کامیابی حاصل کرتی نظر آرہی ہیں جب کہ بعض حلقوں میں آزاد امیدواران کو سبقت حاصل ہے۔

بلوچستان کے کئی حلقوں میں ووٹنگ کا ٹرن آئوٹ انتہائی کم رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG