رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی کا ترمیمی بل منظور


جمعرات کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے ترمیمی بل 2014ء پر تفصیلی بحث کے بعد اس منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

پاکستان کے ایوانِ زیریں میں انسداد دہشت گردی کا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

بل کو رکن اسمبلی، زاہد حامد نے 3 فروری کو منظوری کے لیے پیش کیا تھا اور قومی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں اس ترمیمی بل پر حزب مخالف کی بعض جماعتیں تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے، زاہد حامد نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے ترمیمی بل 2014ء پر تفصیلی بات ہو چکی ہے تاہم پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان کا مطالبہ تھا کہ جلد بازی میں بل منظور کرنا درست نہیں ۔

اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما، متعدد ارکان اور خود اپوزیشن رہنما ایوان میں موجود نہیں لہذا اس بل کی منظوری کے عمل کو ایک دن کے موخر کر دیا جائے تاکہ مزید تجاویز بھی شامل کی جا سکیں۔

لیکن اسپیکر نے بل کو شق وار منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کی بعض تجاویز کو بھی شامل کیا گیا۔

اب یہ بل ایوان بالا ”سینیٹ“ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹ میں اس بل کی مخالفت کریں گے، جمعرات کو پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کے اجلاس سے بھی واک آؤٹ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG