رسائی کے لنکس

نیب کی طرف سےسوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے عمل کا آغاز


نیب کے چیئرمین نوید احسن

نیب کے چیئرمین نوید احسن

انسداد بدعنوانی کے وفاقی ادارے قومی احتساب بیورو یا نیب کے چیئرمین نوید احسن نے بدھ کے روز عدالت عظمیٰ کو تحریر ی طور پر آگاہ کیا کہ اُن کے ادارے نے سوئیٹزلینڈ کے حکام کو صدر آصف علی زرداری اور دیگر افراد کے خلاف دوبارہ مقدمات کھولنے کے لیے خط لکھ دیا ہے جب کہ اندرون ملک بھی 158 مقدمات بحال کر دیے گئے ہیں ۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ نے نیب کے چیئرمین کو یہ انتباہ کیا تھا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر این آراو کے خلاف عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا توتوہین عدالت کے جرم میں اُنھیں سزا دی جاسکتی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور

مقدمے کی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چیئرمین نیب کی رپورٹ کے بعد عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جمعرات کے روز عدالت کو بتائیں کہ آیا این آر او کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد شروع ہو گیا ہے یا نہیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت اب جمعرات کو ہو گی ۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر اور سپریم کورٹ کے وکیل احمر بلال صوفی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے بعد اب وہاں کے حکام کو فیصلہ کرنا ہے کہ مقامی قوانین کے مطابق پاکستانی حکومت کی درخواست پر عمل درآمد کیسے کیا جائے۔

صدر زرداری کے حامیوں کا موقف ہے کہ سربراہ مملکت کے عہدے پر تعیناتی کے دوران اُن کے خلاف نہ تو پرانے مقدمات میں کارروائی کی جاسکتی ہے نہ ہی مقدمات قائم کیے جاسکتے ہیں کیوں کہ آئین کی 248 ویں شق کے تحت صدر کو اس حوالے سے استثنا حاصل ہے۔ لیکن منگل کو عدالت عظمیٰ میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سرکاری وکلا ء کے دلائل کے جواب میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ملک کے صدر کو استثنا حاصل ہونے کی قانونی حیثیت کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔

ادھر برطانوی خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ نے سوئٹزرلینڈ کے پراسیکیوٹر جنرل ڈینئیل زپیلی کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے حکام کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ریاست کا سربراہ ہونے کے ناطرے صدر زرداری کو بہرحال استثنا حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG