رسائی کے لنکس

ڈاکٹر غلام نبی فائی غیرقانونی لابینگ کے الزام میں گرفتار


ڈاکٹر غلام نبی فائی غیرقانونی لابینگ کے الزام میں گرفتار

ڈاکٹر غلام نبی فائی غیرقانونی لابینگ کے الزام میں گرفتار

امریکہ نے دو افراد پر سازش کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق ظاہر کیے بغیروہ امریکہ میں لابی کرتے تھے اور انہیں اس مقصد کے لیے پاکستانی خفیہ ایجنسی رقوم فراہم کررہی تھی۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی غیرقانونی لابینگ کے الزام میں گرفتار

ڈاکٹر غلام نبی فائی غیرقانونی لابینگ کے الزام میں گرفتار

62 سالہ ڈاکٹرسید غلام نبی فائی اور63 سالہ ظہیر احمد دونوں امریکی شہری ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ایک غیر ملکی حکومت کے غیر رجسٹر شدہ ایجنٹ ہیں اور پاکستان کی حکومت کے لیے بغیر رجسٹریشن کے کام کرتے ہیں۔ فائی کو منگل کے روز واشنگٹن کے قریب انکے گھر سے گرفتار کیا گیا جبکہ ظہیر احمد پاکستان میں ہیں۔ جرم ثابت ہونے پر دونوں کو پانچ پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

امریکی محکمہٴ انصاف کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فائی ، جو کہ میڈیکل ڈاکٹر نہیں ہیں، واشنگٹن میں کشمیری امریکن کونسل کے سربراہ ہیں۔ ایف بی آئی کے مطابق ’کئی برسوں سے جاری اسکیم‘ میں حصہ لیتے رہے جِس کا مقصد کشمیرکے متنازعہ ہمالیائی خطے کےلیے امریکی حکومت کی پوزیشن پر اثرانداز ہونے میں کردار ادا کرنا تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے ساتھ کام کرنے والےمبینہ طور پرکونسل کے ذریعےلاکھوں ڈالر کی ترسیل میں ملوث تھے، جِس کا مقصد واشنگٹن میں امریکی سیاست دانوں اور دیگر فیصلہ ساز وں کے سامنے’کشمیر کاز‘ پیش کرنا تھا۔

ایف بی آئی کے مطابق انہیں فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

استغاثے کا کہنا ہے کہ حقیقت میں کشمیری امریکن کونسل کو پاکستانی حکومت کے عناصر چلاتے ہیں، جن میں ملک کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی(انٹر سروسزانٹیلی جنس یا آئی ایس آئی) شامل ہے۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ فائی نے، ظہیراحمد اور اُن کے فنڈنگ نیٹ ورک کے ذریعے 1990ء کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستانی حکومت سے کم از کم 40لاکھ ڈالر وصول کرچکے ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ایک عہدے دار جیمس مک جنکن نے منگل کو بتایا کہ غیر ملکی حکومتوں کی طرف سے غیر رجسٹرڈ ایجنٹوں کے ذریعے امریکہ کو متاثر کرنے کی کوشش ’ہماری قومی سلامتی کےلیے خطرے کاباعث ہے‘۔

ایف بی آئی کے مطابق دو خفیہ مخبروں نے ادارے کو بتایا کہ کس طرح ڈاکٹر فائی اور ظہیر احمد نے پاکستان سے پیسے کی ترسیل کو چھپانے کی کوشش کی۔ ایف بی آئی حلفی بیان کے مطابق کشمیر امریکن کونسل پاکستانی حکام کو سالانہ اپنے بجٹ کی رپورٹس بھیجا کرتی تھی۔

ایف بی آئی کے حلفی بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فائی کو مارچ 2010 میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایک خط بھیجا گیا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے گروپ کو ایک فارن ایجنٹ کے طور پر رجسٹر کرائیں کیونکہ انکے کام کی نوعیت ایسی ہی ہے۔ اس خط کے جواب میں ڈاکٹر فائی نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی طور پاکستانی حکومت کے لیے کام نہیں کرتے۔ اس سے پہلے 2007 میں بھی ایف بی آئی نے ڈاکٹر فائی سے اس موضوع پر سوالات کیے تھے۔ اس سال مارچ میں ایک بار پھر ڈاکٹر فائی نے ایف بی آئی سے ایک انٹرویو میں ان الزامات کی تردید کی تھی۔

XS
SM
MD
LG