رسائی کے لنکس

ایسے سائنسی شواہد ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ نیل پالش کے اجزاء میں شامل عام کیمیکل 'ٹرائی فینائل فاسفیٹ' نیل پالش لگانے والی رضا کار خواتین کے جسم میں جذب ہو گیا تھا۔

ایک نئے مطالعہ میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ خواتین کے ہاتھوں کو خوبصورت بنانے والی نیل پالش کی مصنوعات نا صرف ناخنوں پر رنگ چڑھاتی ہیں بلکہ ناخنوں کے ذریعے جسم میں ایک ایسا کیمیکل خارج کرتی ہیں، جو ہارمونز کے نظام میں خلل پیدا کرتا ہے۔

'ڈیوک یونیورسٹی' اور ماحولیاتی ورکنگ گروپ (ای ڈبلیو جی) کے ایک مشترکہ مطالعے میں محققین کو ایسے سائنسی شواہد ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ نیل پالش کے اجزاء میں شامل عام کیمیکل 'ٹرائی فینائل فاسفیٹ' نیل پالش لگانے والی رضا کار خواتین کے جسم میں جذب ہو گیا تھا۔

محققین نے کہا کہ ناخنوں کے ذریعے جسم میں جذب ہونے والا کیمیکل ٹرائی فینائل فاسفیٹ یا (ٹی پی ایچ پی) جسے نیل پالش کو دیرپا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، عام طور پر پلاسٹک کی مصنوعات اور فوم والے فرنیچر میں آگ سے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نتائج سے دریافت ہوا کہ یہ کیمیکل جسم میں ہارمونز کے نظام، تولیدی نظام میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔

یہ تحقیق 'اینوائرمنٹل انٹرنیشنل' نامی جریدے میں شایع ہوئی ہے جس میں سائنس دانوں نے 10 نیل پالش پر تحقیق کی جس میں سے انھیں آٹھ نیل پالش میں یہ کیمیکل ملا جبکہ ان نیل پالش کے اجزاء میں شامل کیمیکل ٹرائی فینائل فاسفیٹ کی موجودگی کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

محقق نے کہا کہ یہ نتائج انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ ناخنوں کو رنگنے والی مصنوعات کو خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور یہ ہارمونز کے نظام کو تباہ کرنے والے کیمیکل پر مشتمل ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات اور بھی زیادہ پریشانی کا باعث ہے کہ نیل پالش لگانے کے بعد یہ کیمیکل جسم میں بہت تیزی سے جذب ہو جاتا ہے۔

مطالعہ منعقد کروانے والی کاسمیٹیکس کمپنی ای ڈبلیو جی کے اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں اس وقت 49 فیصد یا تقریباً 3000 نیل پالش کی مصنوعات اسی کیمیکل پر مشتمل ہیں جبکہ رنگوں والی نیل پالش کے مقابلے میں بنا رنگ کی نیل پالش میں عام طور پر یہ کیمیکل زیادہ ہوتا ہے۔

زیر نظر مشاہدہ 26 خواتین رضا کاروں پر مشتمل تھا جن کو نیل پالش لگانے کے لیے کہا گیا اور مشاہدہ شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں ان سے پیشاب کے نمونے لیے گئے۔

تکنیکی اعتبار سے کہا جائے تو محققین نے پیشاب کے نمونوں میں ڈائی فینائل فاسفیٹ (ڈی پی ایچ پی ) کی سطح کا تجزیہ کیا۔ یہ ایک مادہ ہے جو ٹرائی فینائل فاسفیٹ کیمیکل کو جذب کرنے پر جسم میں نمودار ہوتا ہے۔

محققین نے دیکھا کہ جب خواتین نے براہ راست نیل پالش سے ناخنوں کو رنگا تو نتائج سے ظاہر ہوا کہ نیل پالش لگانے کے 10 سے 14 گھنٹوں کے دوران ان خواتین کے جسم نےکیمیکل ٹرائی یا تین فینائل کو پراسس کیا تھا جس سے جسم میں تین کے بجائے ڈائی فینائل یا دو فینائل مادے رہ گئے تھے اور ڈائی فینائل فاسفیٹ کی سطح میں 7 گنا اضافہ ہوا تھا۔

محققین نے یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا یہ کیمیکل سونگھ کر یا براہ راست ناخنوں سے جسم میں داخل ہوتا ہے، شرکاء کے گروپ کی خواتین کو دستانے پہننا کر مصنوعی ناخنوں پر نیل پالش لگانے کے لیے کہا لیکن نتیجہ حسب معمول وہی تھا جس کی سائنس دانوں کو توقع تھی یعنی سابقہ گروپ کی خواتین میں کیمیکل کی سطح میں مزید اضافہ نہیں ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG