رسائی کے لنکس

کراچی میں نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود علاقوں، گلی محلوں اور بستیوں کے نام وہی ہیں جو تقسیم ہند کے وقت یہاں آنے والے بزرگوں نے اپنے آبائی شہروں اور علاقوں کو یادوں میں زندہ رکھنے کے لئے یہ نام رکھے تھے

کراچی کے برنس روڈ پر جائیں تو آپ کو کم از کم پانچ چھ جگہ یہ عبارت لکھی ضرور ملے گی’دہلی کی ربڑی‘، ’دہلی ربڑی ہاوٴس‘ ، ’دہلی کے مشہور دہی بڑے‘، ’صبح نہاری شام نہاری۔۔ دلی کی مشہور نہاری‘، بومبے ڈرائی فروٹ، بمبئی ڈرائی کلینر۔۔۔

پھر نارتھ ناظم آباد بلاک اے میں اور گرومندر کا راوٴنڈ اباوٴٹ عبور کرتے ہوئے بائیں جانب آپ کو ’میرٹھی کباب‘ بھی لکھا ضرور ملے گا۔۔آئی آئی چندریگر روڈ پر بومبے ہوٹل، دیگر علاقوں میں جگہ جگہ لگے مصالحے کے اشتہارات میں ’بمبئی بریانی‘ نیپا چورنگی پر حیدرآبادی بینگن، حیدرآباد کی کھٹی دال اور بنگالی مچھلی ۔۔۔

ہوسکتا ہے شہر اپنے اور نام پرائے سن کر آپ کو حیرت ہوئی ہو یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں آپ کو دلچسپی محسو س ہوئی ہو۔۔۔ جو بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ کراچی میں نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود علاقوں، گلی محلوں اور بستیوں کے نام وہی ہیں جو تقسیم ہند کے وقت یہاں آنے والے بزرگوں نے اپنے آبائی شہروں اور علاقوں کو یادوں میں زندہ رکھنے کے لئے یہ نام رکھے تھے۔

وہ وقت کیسا تھا اور اس کے تقاضے کیا تھے یہ شاید دیمک چٹی کتابوں اور رسالوں میں اب بھی لکھا کہیں مل جائے۔ لیکن، جو اب تک نظر کے سامنے ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شہر قائد میں پڑوسی ملک کی ایک وسیع و عریض ’خیالی‘ دنیا آباد ہے۔

جواز کے طور پر کچھ علاقوں کے نام ملاخطہ کیجئے۔۔۔اور ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشیں رکھئے کہ یہ نام سرحدوں کے دونوں جانب آج بھی موجود ہیں۔

’ بنگلور‘ ٹاوٴن،’ صدر‘ بازار،’ بہار‘ کالونی، ’یوپی‘ موڑ، ’دہلی‘ کالونی، سبزی منڈی، گرین ٹاوٴن، ’بنارس‘ ٹاوٴن، ’حیدرآباد کالونی، اردو بازار، آرام باغ، گودھرا کالونی، دھوراجی کالونی، علی گڑھ کالونی، نارائن پورا، بھیم پورا، ’دریا‘آباد۔۔

جتنے علاقے ہم نے اوپر بیان کئے ہیں ان میں سے کچھ بھارتی ریاستوں کے نام ہیں تو کچھ دہلی میں آباد علاقوں کے نام جبکہ کچھ بڑے شہروں کے نام بھی ان میں شامل ہیں۔

ویسے تو کراچی کی حدود تک ہی یہ ’خیالی‘ یعنی خیال میں رہنے والی دنیا آباد نہیں بلکہ کراچی کے باہر بھی کہیں کہیں صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ مثال کے طور ’کشمیر‘ یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔۔اسی طرح لاہور کا شاہدرہ، سندھ کا شہر حیدرآباد، گجرات اور صوبہ پنجاب ۔۔جو ادھر بھی ہے اور ادھر بھی۔

حد تو یہ ہے کہ مختلف دکانوں، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے نام بھی ایک جیسے ہی ہیں۔ پھر کھانوں کو بھی مت بھولئے۔۔یہاں اور وہاں جو کھانے کھائے اور پروسے جاتے ہیں وہ بھی ایک ہی طرح کے ہیں، مثلاً لال قلعہ ریسٹورنٹ، تاج محل سنیما، رنگولی، دہلی کی لسی، کراچی کا ایک پرانا فائیو اسٹار ہوٹل تاج محل، امبالہ، آگرہ تاج ہوٹل، حیدرآباد اچار، دکھنی مرچ اور بھی نہ جانے کیا کیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ بھارت کے حالیہ انتخابات میں ’عام آدمی پارٹی‘ بنی تو اس کی شہرت پھیلتے پھیلتے پاکستان تک چلی آئی اور یہاں بھی راتوں رات اس نام کی ایک پارٹی تشکیل دے دی گئی۔

کچھ بزرگوں خاص کر امروہہ ضلع مراد آباد بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے ایک بزرگ سردار احمد کا کہنا ہے کہ ’بھائی زمین تو وہی ہے ۔۔بٹوارا ہوگیا ۔۔۔زمین پر لکیریں کھنچ گئیں تو کیا ۔۔ ہوائیں، پانی، فضا تو سب ایک ہی جیسا ہے۔۔۔بس مذہبی نظریہ مختلف تھا سو ہم یہاں آگئے اور وہ وہیں رہ گئے۔۔‘

XS
SM
MD
LG