رسائی کے لنکس

نانگا پربت حملے کے ملزمان گلگت سے اڈیالہ جیل منتقل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

22 جون 2013 کو 16 حملہ آوروں نے پاکستان کی دوسری بڑی چوٹی نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ان کے ایک مقامی گائیڈ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

نانگا پربت کے بیس کیمپ میں دس غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ایک مقامی گائیڈ کے قتل کے تین ملزمان کو گلگت بلتستان سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نانگا پربت حملے میں نامزد ملزموں قریب اللہ، عرفان اور حفیظ کو قومی فضائی کمپنی ’’پی آئی اے‘‘ کی ایک پرواز سے گلگت سے جمعہ کو راولپنڈی لے جایا گیا۔

22 جون 2013 کو 16 حملہ آوروں نے پاکستان کی دوسری بڑی چوٹی نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ان کے ایک مقامی گائیڈ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں تھیں کہ ان افراد کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر راولپنڈی منتقل کیا گیا مگر فیض اللہ فراق نے کہا کہ اس کیس پر تحقیقات جاری ہیں اور انہیں تفتیش کے لیے راولپنڈی بھیجا کیا گیا ہے۔

’’سکیورٹی خدشات نہیں کہا جا سکتا۔ یہاں پر سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف بڑے منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ان کے جتنے بھی نیٹ ورک ہیں سب کو توڑ دیا گیا ہے۔ وہ اتنے زیادہ پسپا اور کمزور ہو گئے ہیں کہ سکیورٹی خدشات بہت کم تھے البتہ ان (ملزمان) کو تفتیش کے سلسلے میں یہاں سے منتقل کیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ اس کیس کی تفتیش ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔ فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملے میں درجن بھر افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے چھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال فروری میں ان ملزمان میں سے ایک گلگت جیل سے فرار ہونے کی کوشش میں ہلاک جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت کے علاوہ دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ کو سر کرنے کے لیے ہر سال کئی غیر ملکی کوہ پیما پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔تاہم اس واقعے کے بعد یہاں سکیورٹی خدشات کے باعث غیر ملکی کوہ پیماؤں کی آمد متاثر ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG