رسائی کے لنکس

سیریل کی آخری قسط کا لوگوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ اس قسط کے بہت سے سین ایسے تھے کہ لوگ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے

پاکستانی ڈرامے شروع ہی سے اپنی مقصدیت، کہانی اور حقیقت کے قریب تر ہونے کی وجہ سے دنیا بھرمیں پسند کئے جاتے ہیں۔ پرائیوٹ ٹی وی چینلز نے اس روایت کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ اب بھی ایسے بہت سے ڈرامے ہیں جنھیں دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ یہ ہماری کہانی ہے یا ہمارے ہی آس پڑوس کے کسی گھر کا قصہ۔

’جیو ٹی وی‘ پر پیش کی جانے والی سیریل ’ننھی‘ نے بھی اپنے حساس موضوع اور لاجواب اداکاری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا اور اس کے ہر کردار کو خوب پذیرائی ملی۔

بچہ چرانے والی دائی کے روپ میں اسما عباس کے غضب کے ایکسپریشن ہوں یا سجل کی کہیں معصومیت اور کہیں چالاکی کے رنگ دکھاتی اداکاری۔ جاوید شیخ کا مخصوص انداز میں ’ایم اے فرام جامشورو یونیورسٹی‘ کا تکیہ کلام ہو یا جرم ختم کرنے کے بجائے رشوت بٹورنے والا اے ایس آئی شمعون عباسی یا پھر خود کو محلے کی ہر لڑکی کے خوابوں کا شہزادہ سمجھنے والا رومیو شہود علوی۔ سبھی نے اپنے اپنے کرداروں سے انصاف کیا اور تصوراتی کہانی کے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔

آئے دن میڈیا میں اسپتالوں سے نومولود بچوں کی چوری کی خبروں سے ہر صاحب اولاد اور حساس انسان کو دکھ ہوتا ہے۔ ’ننھی‘ کی کہانی کا تانابانا بھی بچوں کی چوری میں ملوث اور ان کے لواحقین پر گزرنے والی قیامت پر بنا گیا تھا۔

سیریل میں چوری کئے گئے بچوں کو پالنے والی کم عمر لڑکی کی نفسیات میں لگنے والی گرہوں کو بھی اس خوبی سے اجاگر کیا گیا کہ وہ ہرایک کے دل کو چھو گئی۔

سیریل کی آخری قسط کا لوگوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ اس قسط کے بہت سے سین ایسے تھے کہ لوگ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ اچھائی اور برائی کے رنگ بھی اس سیریل میں بڑے مختلف انداز میں پیش کئے گئے۔

پاکستانی ڈراموں کی فین شیما صدیقی نے ’وی او اے‘ سے بات چیت میں بتایا کہ انہوں نے ڈرامے کی کوئی قسط ’مس‘ نہیں کی۔ ان کے بقول، ’ابتدا میں مجھے صرف ڈرامے کے پس منظر میں دکھایا جانے والا قدیم علاقے کا پرانا محلہ اور اس میں رہنے والے لوگوں کا رہن سہن ہی اچھا لگتا تھا۔ لیکن، جوں جوں کہانی کھلتی گئی ،میں اس کے ساتھ گویا جڑتی چلی گئی۔‘

موضوع کی مناسبت سے بنایا گیا ڈرامے کا ٹائٹل سانگ بھی ناظرین نے بے حد پسند کیا جسے لکھا تھا علی معین نے اور میوزک ترتیب دیا تھا وقار علی نے۔ وقار علی کے سروں کو اپنی آواز سے سجایا تھا ڈیاس الیشیا نے۔

ننھی کی کہانی لکھی تھی مونا حسیب نے، جبکہ اس کے ڈائریکٹر حسیب تھے جنھیں سینئر اور ورسٹائل اداکارہ بشرا انصاری کی معاونت حاصل تھی۔ ڈرامے کے پراجیکٹ ہیڈ اقبال انصاری تھے جبکہ ڈرامہ میں جاندار اداکاری کے ذریعے حقیقت کے رنگ بھرے تھے سجل، شہود علی، اسما عباس، جاوید شیخ ، شہروز سبزواری، انوشے عباسی، عروسہ صدیقی اور راشد فاروقی نے۔
XS
SM
MD
LG