رسائی کے لنکس

کراچی میں ’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس‘ کی جانب سے چوتھے’انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیول‘ کی افتتاحی تقریب بدھ کی شام ہوگی۔فیسٹیول 20دن چلے گا،جس میں بھارت، برطانیہ، جرمنی اور پاکستان کے تھیٹر گروپس حصہ لیں گے

’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس‘ کراچی کا ’چوتھا انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیول‘ بدھ سے شروع ہونے والا ہے۔ گیارہ مارچ کو افتتاحی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ ڈراموں کی نمائش جمعرات 12 مارچ سے شروع ہوکر 31 مارچ تک جاری رہے گی۔ یوں، کراچی میں تھیٹر سے جڑے ملکی اور غیر ملکی فنکاروں کا میلہ 20 دن تک سجا رہے گا۔

سنہ 2014کے فیسٹیول کی دلکشی بالی ووڈ ایکٹر نصیرالدین شاہ کا تھیٹر پلے ’عصمت آپا کے نام‘ تھا تو اس بار توقع کی جارہی ہے کہ بالی ووڈ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر مہیش بھٹ کا پیش کردہ ڈرامہ ’ڈیڈی‘ فیسٹیول 2015ء کی سب سے بڑی کشش ہوگی۔

ناپا کے آرٹسٹک ڈائریکٹر ارشد محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ، ’فیسٹیول کے کئی مقاصد ہیں۔ اول یہ کہ کراچی کے شہریوں کو اس کے ذریعے اچھی اور معیاری تفریح میسر آئے گی۔ دوسرے تھیٹر کے مقامی فنکاروں کو عالمی سطح پر پیش کئے جانے والے ڈراموں کے معیار سے آگاہی ہوگی، وہ بین الاقوامی فنکاروں سے اپنے تعلقات استوار کرسکیں گے، جبکہ پرفارمنگ آرٹس کی مختلف ورائٹیز دیکھنے کے دلدادہ افراد کے لئے بھی یہ نادر موقع ہوگا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ، ’اس سے مقامی صلاحیتوں کو تھیٹر کی جانب راغب کرنا اور ان کے ٹیلنٹ کو ابھارنا ہے۔ اس سے ملک میں تھیٹر کا فن بھی فروغ پارہا ہے اور نیا ٹیلنٹ، نئے فنکاروں کو بھی سامنے آنے کا موقع مل رہا ہے۔‘

ناپا کے ریپرٹری تھیٹر کے سربراہ زین احمد کا کہنا ہے کہ ’پہلا فیسٹیول سنہ 2012 میں ’ناپا پرفارمنگ آرٹس فیسٹیول‘ کے نام سے ہوا تھا جو مختصر مدت میں بین الاقوامی فیسٹیول کا روپ لے چکا ہے۔ یہ چوتھا فیسٹیول ہے اور اس بار تو اس فیسٹیول کو ’میں کراچی‘ کا بھی تعاون حاصل ہے۔‘

ناپا انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، فیسٹیول میں انڈیا سے تین گروپ پرفارم کریں گے جس میں’اجاگر ڈراماٹیک ایسوسی ایشن‘،’بینگ ایسوسی ایشن’ اور ’مہیش بٹ پروڈکشنز‘ شامل ہیں۔

انگلینڈ سے ’گریگوری ٹامپسن‘، جرمنی سے’بری جل گوجکا ‘اور امریکہ سے’ کتریس پروڈکشن تھیٹر گروپ‘ پرفارم کریں گے، جبکہ پاکستان سے ناپا کی گریجویٹنگ کلاس، لاہور ’اینڈ‘ سے’آزاد تھیٹر‘ اور ’اجوکا تھیٹر‘ اور کراچی سے ’تحریک نسواں‘ گروپ حصہ لے رہے ہیں۔

کراچی میں قیام امن کے لئے جاری ’میں کراچی‘ مہم کی رومانہ حسین کا کہنا ہے کہ ’فیسٹیول کے پلیٹ فارم سے عوامی اتحاد کو فروغ ملتا ہے۔‘ میں کراچی کا مقصد ہی تفریحی مقامات کی رونقیں دوبارہ بحال کرنا اور عوام کو ان کے گھروں سے نکالنا اورشہر کو ’اپنا‘ بنانا ہے۔‘

بیس دنوں میں 10 کھیل پیش کئے جائیں گے، جن کے نام کچھ اس طرح ہیں:
’کانسٹی لیشنز‘،’ کسومل سپنو‘،’ امونگ فوگ‘،’ انکھیاں‘،’ میوزیم آف ا سپائسزان ڈینجر‘ ،’ درہ‘،’ می، مائی موم اینڈ سرمیلا‘،’ بہروپیا‘،’ تم کون‘ اور ’ ڈیڈی‘۔

ایک شو کا ٹکٹ 400 روپے ہے، جبکہ اسٹوڈنٹ کے لئے یہی ٹکٹ 200روپے میں دستیاب ہے۔ البتہ، مہیش بھٹ کی پروڈکشن ’ڈیڈی‘ کا ٹکٹ 2000روپے ہے۔

تھیڑز پلیز کے چاہنے والوں کے لئے آن لائن بکنگ کی سہولت بھی موجود ہے، جبکہ ٹکٹس کی ہوم ڈیلیوری فری ہے۔

XS
SM
MD
LG