رسائی کے لنکس

ہیروئن اسمگلنگ کی روک تھام: ’مخبروں‘ کےلیے فنڈز مختض کیےجائیں


افتخار احمد

افتخار احمد

اقوام متحدہ کے ادارے کی جمعے کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بننے والی ہیروئن کا کم و بیش 40 فیصد پاکستان کے راستے دنیا میں اسمگل ہوتا ہے اور یہ کہ ، پاکستان کے اندر منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے

پاکستان کے انسداد منشیات کے ادارے کے سربراہ میجر جنرل شکیل حسین نے کہا ہے کہ ملک سے ہیروئن کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ’مخبروں‘ کے لیے فنڈز مختض کیے جائیں۔ تاہم، اُنھوں نے بتایا کہ ان منشیات پکڑنے کے حوالے سے پاکستان دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے کے کارکن کس ذمے داری کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی جمعے کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بننے والی ہیروئن کا کم و بیش 40 فیصد پاکستان کے راستے دنیا میں اسمگل ہوتا ہے، اور یہ کہ ، پاکستان کے اندر منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے لیے پورے ملک میں ایک سروے کرانے کی تیاریا ں کی جا رہی ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اینٹی نارکا ٹکس فورس کے ڈائریکٹر جنرل سید شکیل حسین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے کے اعدادوشمار میں کمی بیشی کا امکان رہتا ہے، کیونکہ عموماً ایسی رپورٹوں کے لیے جو ذرائع استعمال میں لائے جاتے ہیں وہ مکمل قابل بھروسہ نہیں ہوتے۔

تاہم ، اُن کے خیال میں اگر پاکستان سے 30 فیصد منشیات بھی اسمگل ہو رہی ہیں تو یہ ایک بڑی شرح ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ منشیات کی ا سمگلنگ کسی بھی ملک میں ہو، وہاں کے اداروں میں بدعنوانی کا عنصر ہوتا ہے۔ لہذا، باقی دنیا کی طرح پاکستان کے اداروں میں بھی کرپشن ہے لیکن اس کے سدباب کے لیے سسٹم بھی موجود ہے۔ ان کہنا تھا کہ پاکستان کو اس حوالے سے اکیلے موردالزام ٹھہرانا قطاً ٹھیک نہ ہوگا۔

میجر جنرل شکیل حسین نے بتا یا کہ بین الاقوامی ادارے پاکستان کی رپورٹنگ کو قابل بھروسہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اینٹی نارکاٹکس فورس نے گزشتہ سال 10 ہزار کلوگرام سے زیادہ ہیروئن پکڑی اور نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ جن ملکوں میں سمگل کی گئی وہاں کے اداروں سے بھی تعاون حاصل کیا گیا۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد کے لیے سروے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور ارادہ حکومت پاکستان کی کئی دیگر وزارتوں اور اداروں، اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرح تین ایسے اسپتال بھی چلا رہا ہے جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور ان کو معاشرے کا فعال رکن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اُنھوں نے واضح کیا کہ ادارے کے کارکن منشیات کی ا سمگلنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اپنی جانیں تک دے چکے ہیں لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر اسمگلنگ ہو رہی ہے تو پورے کے پورے نظام میں کرپشن ہے۔

XS
SM
MD
LG