رسائی کے لنکس

امریکہ اور بھارت کی طرف سے چارسدہ یونیورسٹی حملے کی مذمت


نریندر مودی

نریندر مودی

امریکی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں اپنے ملک کی طرف سے مدد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس واقعے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

امریکہ اور بھارت نے پاکستان میں بدھ کو ایک یونیورسٹی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔

شمال مغربی شہر چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے اس حملے میں کم ازکم بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سفیر ڈیوڈ ہیل نے دہشت گردی کے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی طرف سے انسانی جانوں کی بے توقیری قطعاً ناقابل قبول ہے۔

"یہ امر خاص طور پر قابل مذمت ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے ایسے تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا جہاں طلبا اور اساتذہ اپنے اور پاکستانی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے تھے۔"

سفیر کا مزید کہنا تھا کہ "یہ حملہ سب کے لیے احترام کی بنیاد پر قائم ایک محفوظ مستحکم اور ترقی یافتہ ملک کے پاکستانی عوام کے خواب کے مکمل طور پر برعکس ہے۔ دکھ کے ان لمحات میں ہم متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔"

امریکی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں اپنے ملک کی طرف سے مدد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس واقعے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

ادھر بھارت کے وزیراعظم نریند مودی نے بھی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ’’پاکستان کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت۔ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے تعزیت۔ زخمی ہونے والوں کے لیے دعا۔‘‘

یاد رہے کہ 25 دسمبر کو نریندر مودی نے اچانک پاکستان کا مختصر دورہ کیا تھا اور وزیراعظم سے لاہور میں ملاقات کی۔

دسمبر میں ہی پاکستان اور بھارت نے امن مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم بھارت کے فضائی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔

رواں ماہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر دہشت گرد حملے میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ حملہ پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے وابستہ شدت پسندوں کی طرف سے کیا گیا۔

پاکستان کی طرف سے بھارت میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور حکومت کے بقول جیش محمد سے تعلق رکھنے والے متعدد شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG