رسائی کے لنکس

ناسا: 10 لاکھ میل دور سے کرہٴ زمین کی تصاویر


فائل

فائل

یہ تصویر چھ جولائی کو کھینچی گئی تھی، جِس میں شمال اور وسطی امریکہ نمایاں ہیں۔ ناسا نے مزید بتایا ہے کہ یہ تصویر خلا کی گہرائیوں میں نصب ’کلائیمیٹک آبزرویٹری سیٹلائٹ‘ نے ادارے کے ’ارتھ پولی کرومیٹک امیجنگ کیمرہ (اِی پی آئی سی)‘ کی مدد سے کھینچی ہے

امریکہ کے خلائی پروگرام کے ادارے، ’ناسا‘ نے پیر کے روز ایک رنگین تصویر جاری کی ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں 10 لاکھ میل دور سے کرہٴ ارض کی عکس بندی کی گئی ہے، اُس وقت جب زمین پر سورج کی شعائیں پڑ رہی ہیں۔

یہ تصویر چھ جولائی کو کھینچی گئی تھی، جِس میں شمال اور وسطی امریکہ نمایاں ہیں۔

ناسا کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر خلا کی گہرائیوں میں نصب ’کلائیمیٹک آبزرویٹری سیٹلائٹ‘ نے ادارے کے ’ارتھ پولی کرومیٹک امیجنگ کیمرہ (اِی پی آئی سی)‘ کی مدد سے کھینچی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بہت ہی جلد، ’اِی پی آئی سی‘ یومیہ بنیاد پر تصاویر لینا شروع کرے گی، جو 12 سے 36 گھنٹے بعد دستیاب ہوا کریں گی۔ ستمبر سے، لوگ اِن تصاویر کو ویب پیج پر دیکھ سکیں گے۔

اس کا مقصد مطالعاتی نوعیت کا ہے۔ پہلی بار پورے کرہٴارض پر آنے والی تبدیلیوں کے نقش نمایاں دیکھے جا سکیں گے۔

دراصل یہ تصویر تین مختلف تصاویر کو ملا کر بنائی گئی ہے، تاکہ معیاری فوٹوگرافی کا عکس اُبھر سکے۔

یہ کیمرہ ایکساتھ 10 تصویروں کھینچتا ہے، جن میں ’الٹرا وائلیٹ‘ سے لے کر ’انفرا ریڈ‘ نوع کے، تنگ ’بینڈ فلٹرز‘ استعمال ہوتے ہیں، تاکہ سائنسی طور پر مختلف مصنوعات تیار کی جاسکیں۔

اِن رنگین تصاویر میں سرخ، سبز اور نیلے چینل کی بنیاد پر عکس بندی کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG